ایمان، تقویٰ اور اقامتِ دین کے ذریعے دنیا و آخرت کی کامیابی

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْؕ-مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌؕ-وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ (66)
سورۃ المائدہ کا آٹھواں سبق آٹھواں باب تھا، اس میں گندہ اعمال، خباثتیں یھودیوں کے بیان ہوئے، اس کے لئے کہ مسلمان ان سے بائیکاٹ کرے۔ آخر میں ان کو دعوت دیا کہ اگر ایمان اور تقوی پر ڈٹ گئے، ایمان لا کے تقوی اختیار کیا تو گناہ الله معاف کرکے جنت میں داخل کردے گا، اور بشارت دیا دنیا کا کہ اس سے نہ ڈرو کہ تمھارے مال اور دولت خراب ہوجائے گے، اور ملک بحثیت ملک نہ ڈرے کہ وہ یہ کہے کہ اگر ہم نے الله تعالیٰ قانون جاری کیا تو دنیا سے ہمارا تجارت کٹ جائے گا اور ہمارے اقتصادیات خراب ہوجائے گے۔ اقتصادی ترقی وہ الله رب العزت دین پر دے گا، یہ نہ کہو کہ معاش معیشت وہ گر کر خراب ہو جائے گا، تو الله رب العزت نے قرآن کریم میں دین پر دنیا کا وعدہ کیا ہے۔ ایک بندہ دین پر ڈٹ جائے اور ایک ملک وقوم الله تعالیٰ کے تابعدار ہوجائے اور الله رب العزت کی قانون کو نافذ کرے، عمل اور نظام دونوں میں، الله رب العزت ان کی اقتصاد کو برابر کرتا ہے، خراب نہیں کرتا۔
یہ قرآن کریم میں کئی جگہوں پر الله تعالیٰ نے دین پر دنیا ٹھیک کرنے کا وعدہ کیا ہے، یعنی مطلب الله رب العزت صرف اور صرف رب الآخرۃ اور آله المعاد نہیں ہے کہ صرف آپکے اخرت کا انتظام برابر کرکر آپکی دنیا کو خراب کرتا ہے اور آپکو یہ کہتا ہے کہ دین پر عمل کرو اور جلتے جاو، بھوکسے مرجاو، لیکن میرا قانون مانو اور آخرت کو برابر کردو، بلکہ الله رب العزت رب الدنیا، رب العالمین اور اله المعاش بھی ہے۔ الله تعالیٰ دنیاوی انتظام بھی ٹھیک کرتا ہے، معاش اور اقتصاد بھی برابر کرتا ہے، یہ نہیں کہ اس محروم کرتا ہے۔ تمام زندگی کا اصلاح الله رب العزت نے شریعت اور اسلام میں رکھا ہے۔ ہم پڑھتے نماز ہے اور کہتے ہے کہ الله تعالیٰ نے ہماری دنیا ٹھیک نہیں کی، آپ مکمل نظام کو اپناؤ۔ مسجد کی اپنی نماز ہے، تھانہ تحصیل کی اپنی نماز ہے، کچہری کی اپنی نماز ہے، ہر ایک میں الله تعالیٰ کا تابعدار بنو اور اس کو الله رب العزت کے نظام پر چلاو۔ جو بھی محکمہ ہے زندگی کا، اس کو شریعت کے قانون مے ساتھ برابر کرو۔
ہم کو جب کہہ جائے کہ ااری زندگی میں الله رب العزت کی قانون کا خیال رکھو تو ہم کہتے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تھانہ میں، سکول میں، بینک میں، پارلیمنٹ میں بھی نماز پڑھنا ہے۔ کہتے ہیں دیکھو اتنا اچھا انسان ہے، تھانہ بند کرکے نماز پڑھ لیا۔ بے شک نماز الله تعالیٰ کا حکم ہے، ھر جگہ پڑھنا ہے، لیکن نماز ایک دعوت ہے۔ تھانہ، تحصیل اور کچہری ھر محکمے کے اپنی احکامات ہے، انکو ماننا دین کو ماننا ہے، اور وہ احکامات مان کر زندگی میں جاری کرنا دین پر عمل کرنا ہے۔ دین کے خیال رکھنے کا مطلب یہی ہے۔ ذرا اپنے بینک کو قرآن کریم کے سامنے کردو کہ آپکا بینک اسلامی اصول کے برابر ہے یا نہیں، اگر برابر نہ ہو تو برابر کردو اسکو اسلامی اصولوں کے موافق، اور اگر برابر ہو تو الحمدلله کہو۔ فوج کا محکمہ ہے، اسلام ملٹری اصولوں کے سامنے رکھ دو کہ اس کے برابر ہے، یا اسطرح دوسرا محکمہ ہے، پولیس، عدلیہ، جوڈیشنل ہے، ان محمکوفاوں کے اسلامی احکامات ہے جو الله رب العزت نے ہماری دنیا کو ٹھیک کرنے کے لئے اتارے ہیں۔
لیکن صرف اور صرف دنیا کی زندگی ہمارا مقصد نہیں ہے، ایسے طریقے پر ٹھیک کرنا کہ ساتھ میں آخرت بھی ٹھیک ہوجائے۔ انگریز، ہندو اور یورپ والے وہ دنیا کی زندگی ٹھیک کرتے ہیں، لیکن وہ کہتے ٹھیک ہوجائے دنیاوی زندگی اور خوشحالی ہو، نہ آخرت مانتے ہیں اور نہ آخرت کی سوچتے ہیں۔ وہ کہتے مال زیادہ کرو، خوشحالیاں زیادہ کرو، شھوات پورے کرو، شھوۃ الفرج والبطن جس طرح پورا کرتے اس طرح پورا کرو، مال حاصل کرو خواہ حلال ہو یا حرام، اسی کی وہ دنیا کی زندگی کہتے ہیں۔ امن لاو خواہ لوگوں کے قتل کے ساتھ ہو، جس کے ساتھ بھی ہو۔ قرآن مجید امن، حیا چاھتا ہے، لیکن اس کے اصول ہے۔ قرآن مالی انصاف چاھتا، اس کے اصول ہے۔ اس طور پر کام ہوجائے کہ بندہ آخرت میں مجرم نہ ہو، آخرت میں اس کو فائدہ دے، وہ طریقہ قرآن اور اسلام نے دیکھایا ہے۔
تو الله رب العزت یہ نہیں کرتا کہ ہمارا دنیا ٹھیک کرکے آخرت خراب کرتا ہے، بلکہ دنیا اس طور پر ٹھیک کرتا ہے کہ آخرت خراب نہ ہو، بلکہ آخرت بھی ٹھیک ہوجائے۔ رحمان الدنیا ورحیمھما، الله رب العزت دنیاوی مھربانیاں بھی کرتا ہے، لیکن الله رب العزت خاص رحمتیں دنیا آخرت دونوں میں دیتا ہے۔ یہ ایک غلط سوچ ہے کہ اسلام سیکھ کر عمل میں لاوگے تو آخرت اور جنت ٹھیک ہوجائے گے، لیکن دنیا کے لئے ضرور کچھ کرنا ہے خواہ وہ امریکہ کی غلامی ہو، یا ھندو کی غلامی ہو یا جو کچھ بھی ہو وہ کرنا چاہیے۔ نہیں، بلکہ الله تعالیٰ کا غلام ہوجاو، سب کچھ تمھارا ہوجائے گا، الله دنیا آخرت دونوں کو ٹھیک کردے گا۔
الله تعالیٰ ہماری دنیا ٹھیک کرتا ہے، لیکن دین پر دین پر الله رب العزت نے دنیا کا وعدہ کیا ہے۔ سورۃ الاعراف 96:
وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ
اگر یہ شھروں والے ملکوں والے ایمان لاتے اور خود کو بچالیتے الله رب العزت کی خلاف سے، خامخا ہم ان پر آسمان اور زمین کی خیریں
کھول دیتے۔ آسمان بھی خیر دیتا اور زمین بھی خیر دیتی۔
اسطرح سورہ الانفال آیت نمبر 26:
وَاذْكُرُوٓا اِذْ اَنْتُـمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِى الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوَاكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ
اور یاد کرو جس وقت تم تھوڑے تھے، ملک میں کمزور سمجھے جاتے تھے، تم ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک لیں، پھر اس نے تمہیں ٹھکانا
بنا دیا اور اپنی مدد سے تمہیں قوت دی۔ یہ سب کچھ استجابت پر ہوا ہے، مانو الله تعالیٰ تمھاری حالت درست کردے گا۔
سورت ھود آیت نمبر 3:
وَاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُـمَّ تُوْبُـوٓا اِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى
اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو تاکہ تمہیں ایک وقت مقرر تک اچھا فائدہ پہنچائے۔
اسطرح اسی سورت ھود میں آیت نمبر 52:
وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ
اے میری قوم! تم اپنے رب سے معافی مانگو، پھر اس کی بارگاہ میں توبہ کرو، تووہ تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا اور تمہاری قوت کے ساتھ مزید قوت زیادہ کرے گا، اور تم مجرم بن کر منہ نہ پھیرو۔
مادی طاقت ہے تمھاری، ساتھ ایمان لاو گے تو آسمانی قوت بھی تمھارے ساتھ ہو جائے گی۔ زمین کی مادی قوت ٹیکنالوجی تمھارے ساتھ ہے، لیکن ایمان نہیں ہے تو آسمانی مدد اور روحانی طاقت نہیں ہے، جب ایمان لاو گے تو وہ بھی تمھیں دے، ایک بمقابلہ دس ہوجاوں گے، ورنہ دو تو ہونگے ہی ہوگے۔
اسی طرح سورت نور آیت 55
وَعَدَ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّـهُـمْ فِى الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْۖ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَـهُـمْ دِيْنَهُـمُ الَّـذِى ارْتَضٰى لَـهُـمْ وَلَيُـبَدِّلَـنَّـهُـمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِـمْ اَمْنًا ۚ يَعْبُدُوْنَنِىْ لَا يُشْرِكُـوْنَ بِىْ شَيْئًا ۚ
، الله تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ لیستخلفنھم، اور الله رب العزت قانون کو جگہ دے کے ڈر ختم کردے گا۔
اسطرح سورت طلاق میں:
وَ مَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا ۙوَّ یَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ،
الله رب العزت کی خلاف ونافرمانی سے خود کو بچایا، الله رب العزت اس کو غموں اور ٹینشنوں سے نجات دے گا اور ادھر سے روزی دے گا کہ اس کا گمان نہیں ہوگا۔
اسطرح سورت نوح:
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ اِنَّهٝ كَانَ غَفَّارًا (10) يُـرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا (11) وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاﭤ (12)،
میں نے کہا اپنے رب سے بخشش مانگو، وہ بخشنے والا ہے، تم پر شرّاٹے کا مینہ بھیجے گا، اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا۔
سب کچھ فراخی کے ساتھ ہوگے، اقتصادی ترقی الله تعالیٰ نے دین میں رکھی ہے۔
ولو انھم اقامو التوراۃ، اقامت کیا ہے؟ ایک اقامتھا العمل بما فیه من غیر تحریف ولا تبدیل (ماوردی)، اس پر عمل کرنا، جاری کرنا، زندگی میں تبدیلی اس میں نہ کرو، بلکہ خود کو اس کے برابر کردو۔ اقامت کہ یہی مطلب کہ اس کو رواج دے، کہ زندگی کے شعبے میں اس کو رائج کردو، تو اقامت نافذ کرنا، جاری کرنا۔ اقامو اگر انہیں نافذ کیا ہوتا تورات انجیل اپنے اپنے دور میں اور ابھی، وما انزل الیھم من ربھم، تو لاکلو من فوقھم۔ ان کتابوں نے قرآن پر عمل اور مانے کی دعوت دی تھی۔ ماتریدی رحمه الله نے یہ بھی کہا ہے، اقامت انہوں نے تورات انجیل آسمان نظام میں تبدیلی اور اپنی مرضی کے توجیھات کرتے تھے اور اپنے مرضی کے معانی کرتے تھے۔ اقامو جسطرح ہے اسطرح مانو، تحریف اور کتمان سے خود کو بچاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صفات میں انہوں نے تحریف کی تھی اور بعض صفات کو چھپایا ہوا تھا۔ قرآن کریم نے کہا اگر تورات انجیل کو جس طرح ہے اس طرح پیش کردو، ماانزل الیھم من ربھم، یا مراد پچھلے صحیفے یا مراد قرآن کریم ہے، اور ماانزل الیھم من ربھم اسلئے کہا کہ یہ کہتے تھے ہماری طرف یہ نازل نہیں ہوا ہے بلکہ عرب کے امیوں کے لیے ہے، ہم تو علماء ہے، تو قرآن کریم نے رد کے طور پر ماانزل الیھم کہا کہ یہ قرآن ساری دنیا کے لئے ہیں، من ربھم تربیت اور اصلاح کرنے والے کی طرف سے۔
لاکلو من فوقھم ومن تحت ارجلھم، ایک یہ کنایہ ہے، مطلب کہ رزق بہت زیادہ ہوتا، جیسے لوگ کہتے کہ فلاں کے بیسوں انگلیاں گھی میں ہے، تو بیسوں کس طرح گھی میں ہے، پاوں کے انگلیاں تو کوئی گھی میں نہیں رکھتا، یہ مبالغہ ہے، مطلب کہ یہ نعمت بہت زیادہ ہے۔ ادھر مطلب ہے کہ رزق کی فراوانی ہوگی، ھر روز نرخ مھنگے نہیں ہونگے، ھر روز جون ہے، پہلے سال میں ایک دفعہ جون آتا تھا، جون میں نرخ بڑھتے، اب " زار دے شم قابلہ "، اب " زار دے شم پاکستانہ "، ھر دن جون ہے، ہر رات کو نرخ بڑھتا ہے۔ وزیراعظم آج پر دل پر پتھر رکھ کر کچھ کہے گا اور ملک کے لئے سختی برداشت کرے گا تو رزق کی فراوانی ہوگی۔
ویسہ شیخ صاحب رحمه الله فرماتے، جب میں کہتا ہوں میرا حال دیکھ، اوپر سے صدا آتی ہے اپنا نامہ اعمال دیکھ۔ جب میں کہتا الله تعالیٰ میرا حال دیکھ، تو الله تعالیٰ فرماتے اپنا نامہ اعمال زرا دیکھ، اوپر کیا آیا ہے کہ نیچے کچھ بھیجو۔ آپ نے پتھر اور کانٹے بھیجے اور نیچے امید سیب کی رکھتے ہو، اوپر جو کچھ بھیجتے ہو نیچے وہی کچھ آئے گا۔ انگریز کے بول، تھذیب، ثقافت، قانون غیر، اوپر بھیجتے ہو اور مانگتے مجھ سے رحمت ہو، شکر کرو پتھر نہیں برستے۔
دوسرا مطلب، آسمان بارش وقت پر برسائے گا، زمین فصلیں وقت پر دے گا۔
تیسرا، لاکلو من فوقھم، پہاڑوں سے چیزیں نکلے گی اور زمین سے بھی مادنیات نکلے گے۔
چوتھا، لاکلو من فوقھم، حاکم نیک ہوجائے گے، الله تعالیٰ کے قانون پر عمل شروع تو افسر بھی الله کے قانون پر برابر ہوگا، تو افسر لوگوں پر مھربان ہوگا، کتے اور خنزیر کرسیوں ہر نہیں بیٹھے ہونگے، انسان ہوگے، ومن تحت ارجلھم رعایا تابعدار ہونگے، ھر وقت ڈی چوک میں جلسہ نہیں ہوگا کہ احتجاج ہے، اور احتجاج۔
ایک مطلب یہ بھی ذکر ہوا ہے کہ دین پر عمل کرے گے تو آسمانی مدد بھی آئے گا اور زمینی مدد بھی۔
مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌؕ، اور بعض ان میں ہے ایک گروہ تابعدار، درمیان، مطلب افراط تفریط نہیں کرتے، برابر ہے عمل کرنے والے الله تعالیٰ کی تابعداری پر، لیکن اس وقت کے جمھور نافرمان تھے۔
وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠، اور بھت ہے جو ناکارہ عمل کرتے ہیں، بدعمل کرتے ہیں۔ ساء میں معنی فعل تعجب کا، مااسوء عملھم، کتنا خطرناک ہے، پریشان کن ہے عمل ان کا، نتائج اس کے بہت خطرناک ہے۔