حق کی دعوت میں استقامت، اللہ کی حفاظت اور باطل کا انجام

وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ(67)
سورت کا اہم سبق تھا اس میں ترغیب الی التبلیغ بھادری اور جرات کے ساتھ ماانزل کا تبلیغ کرو آسمانی نظام اور سکیم جو الله رب العزت سے زمین کے لئے نظام کردیا ہے اوپر کے قانون آیا ہے تاکہ زمین والے اس نظام کو چلا کر کمال کو پہنچ جائے گے یعنی فرش پر عرش والوں کا نظام ہوگا تو پھر فرش والوں کے تذکرے عرش میں ہونگے ماانزل الیک من ربک یہ آپکی ذمہ داری ہے تو آپنی ذمہ داری ادا کرو وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ اور فکر نہ کرو حفاظت الله تعالیٰ کرے گا والله یعصمک من الناس یعنی وعدہ حفاظت الله رب العزت نے حق کے بیان کرنے پر کیا ہے حق کے چھپانے پر الله رب العزت نے وعدہ حفاظت نہیں کیا ہے والله یعصمک من الناس الله بچائے گا تمھیں لوگوں سے ساتھ میں دوسری تسلی دی کہ فکر رہو یہ نہ کہو کہ میرا دعوت مثمر نہیں ہوا اور میرے دعوت کا نتیجہ نہیں نکلا ھدایت الله تعالیٰ کے اختیار میں ہے جوضدی اور عنادی انکو ھدایت نصیب نہیں ہوتی یہ ان کا اپنا نقصان یہ آپکی کمی نہیں ہے ان الله لایھدی القوم الکفرین ضدی اور عنادیوں کو ھدایت نہیں ملتی
دوسرا اس کی طرف بھی اشارہ کہ میں محنت کرتا ہو دعوت دیات ہو اور بعض لوگ میرے خلاف مشن چلاتے ہیں اور میرے مشن کے مشن چلاتے ہیں میں اکیلا وہ زیادہ ہیں شاھد میرا مشن کامیاب نہ ہوجائے اور میرا دعوت کامیاب نہ ہوجائے قرآن کریم فرماتا جو دعوت فطرت کے خلاف وہ کامیاب نہیں ہوتا ان الله لایھدی القوم الکفرین آپ دعوت حق کی طرف دیتے رہو باطل خود بخود ختم ہوجائے گی اگر تمام لوگ باطل پر ہے اور داعی حق کا اکیلا ہے اور اخلاص کے ساتھ حق کی طرف دعوت دیتا ہے یہ قانون کے باطل ختم ہوگا جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا اسطرح جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ باطل کے ختم کرنے کے لئے حق کے دعوت پر ڈٹ جانا چاہئے باطل کے مشن کو ناکام کرنے کے حق پر اقامت ضروری کیونکہ حق فطری اور باطل فطرت کے خلاف ہے جب حق پرست حق پر ڈٹ جائے اور ظلم اور ظالم کے طرف میلان نہ کرے تو باطل بے نور اور زائل ہوجائے گا تو ان الله لایھدی القوم الکفرین میں دو تسلیاں ہوگئیں
مفسرین نے آیت کریمہ کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ اس آیت کریمہ میں ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت اور بیان تھا بلغ ماانزل الیک مسئلہ بھادری کے ساتھ پہنچاو تو یہ پیغمبر کے ورثاء کی بھی ذمہ داری ہے مفسرین نے ذکر کیا ہے علماء کو چاہئے کہ ماانزل سے کچھ نہ چھپائے الله تعالیٰ نے جو شریعت اتارا لوگوں کو بیان کرے اور فکر نہ کرے الله تعالیٰ حفاظت کرے گا
دوسرا یہ اس آیت کریمہ میں حق کا جو دعوت چلاتا اس کے سامنے کچھ رکاوٹیں آتی ہے اس کی وجہ سے وہ بیان میں اور حق میں سستی کرتا ہے وہ تمام رکاوٹیں ختم کردی ایک اس وجہ سے نہیں کرتا اس کے پاس اپنے منصب کا قدر نہیں یہ اپنے منصب سے غافل ہے یہ خود کو عام لوگوں کی طرح سمجھتا ہے اس کے ساتھ احساس ذمہ داری نہیں ہے جب بھی احساس ذمہ داری ہوا یعنی ایک عالم کو یہ احساس ہوا کہ میں پیغمبر کا وارث ہو اور مجھے وارث نبی کہا جاتا ہے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار کم وبیش انبیاء کرام علیہم السلام کے منصب پر ہو انہوں نے جو کچھ کیا تھا مجھے وہی کرنا چاہئے تو پھر یہ بیان میں سستی نہیں کرے گا لیکن جب منصب معلوم نہ ہو تو اسکو احساس ذمہ داری نہیں ہوتی تو پھر یہ بیان میں سستی کرتا ہے اول قرآن کریم منصب اور احساس ذمہ داری دیتا ہے فمابلغت رسالته تک منصب کی نشاندہی اور احساس ذمہ داری کرواتا ہے
دوسرا بندہ دعوت نہیں چلاتا بیان نہیں کرتا ایک خطرہ اس کو ہوتا ہے وہ خطرہ دو قسم ہوتا ہے ایک قسم خطرہ لوگوں سے تکلیف پہنچنے کا ہوتا ہے کیونکہ خواھشات کے تابعدار وہ زیادہ ہوتے ہیں اور اسلامی پروگرام خواھشاتی اجاداروں اور جنھوں نے خود کے لئے کاغذی خدا بنائے ہوئے ہوتے ہیں ان کاعذی خداؤں پر رد کرتا ہے چیست قرآن؟ خواجه را پیغام مرگ۔ دستگیرِ بندهٔ بے ساز و برگ قرآنی پروگرام کیا چیز ہے یہ وقت کے فرعونوں کے سر پر ضرب ہے کمزور کو اٹھانے والا اور ان کی مدد کرنے والا نظام ہے تو ان ملوک اور سرداروں کو یہ پسند نہیں ہوتا تو انکی طرف سے ضرر کا اندیشہ ہوتا ہے
اور دوسرا خطرہ ہوتا کہ ضرور ھر بندے کا کچھ نہ کچھ دنیاوی مفادات ہوتے ہیں اور دنیاوی فوائد ہوتے ہیں وہ دنیاوی مفادات کبھی بیان سے متاثر ہوتے شاھد اسکی نوکری اور تنخواہ چلی جائے امامتی ختم ہوجائے مدرسہ سیل جگہ بند کردے نشنلٹی ختم کرکے ملک بدر کردے تو ان مفادات کے ختم ہونے کا خطرہ تو یہ دونوں تکالیف تو قرآن مجید نے کہا والله یعصمک من الناس لوگوں کی پرواہ نہ کرو۔ فَلا تَکترث بِالناسِ في الذَمِّ وَالثَناء وَلا تَخشَ غَيرَ اللَهِ فَاللَهُ أَكبَرُ۔ لوگوں کی صفت کا بھی پرواہ نہ کرو کہ لوگ صفت نہیں کرے گے اور لوگوں کے نقصان سے بھی نہ ڈرو سب کچھ دینے والا الله رب العزت ہے
تیسر ا بندہ کے ساتھ خطرہ لوگ نہیں مانتے ضدی اور عنادی ہے میں بیان کرتا ہوں اور کسی پر کچھ اثر نہیں پڑتا کچھ توجوں نہیں کیا الٹہ ضد اور عناد شروع کیا تو بندہ کہتا کیوں اپنا وقت ضائع کرو مطالعہ اور نفل خود کے فائدے کے لئے کرلونگا ذکر اور تلاوت کرلونگا اس بیان کا کیا فائدہ کوئی نہیں مانتا میرا دعوت مثمر اور منتج نہیں دوسرا یہ کہ میرے خلاف مشنیں چل رہی تو اس کالی اندھیرے میں ظلمت بعضھا فوق بعض کالے اندھیرے میں تو یہ معمولی اندھیرا ہے کیا فائدہ دے گا
تو قرآن مجید ان الله لایھدی القوم الکفرین سے یہ رکاوٹ ختم کرتا ہے ایک جو ضدی اور عنادی ہے وہ ایمان نہیں لاتے یہ اختیار آپکا نہیں الله تعالیٰ کا ہے جو نہیں مانتے تو الله تعالیٰ نے کے حوالہ کردو ضدی اور عنادی نہیں مانے گے یہ نہیں کہ آپ دل میں یہ کہو کہ میں بیان کروگا تو تمام لوگ مان لے گے اور میرے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالے گے بلکہ نہ ماننے والے اور ضدی اور عنادی مدمقابل لوگ ہونگے
دوسرا یہ کہتا کہ آپ حق کے بیان پر دائم رہو یہ نہ سوچو کہ باطل کس طرح ختم ہوگا اور اس اندھیروں میں میرا درس کیا فائدہ دے گا آپ لگے رہو یہ روشنی الله تعالیٰ پھیلائے گا کافروں کا مشن الله تعالیٰ کامیاب نہیں کرتا کیونکہ فطرت کے خلاف ہے کچھ وقت کے لئے اوپر نظر آتا ہے اور اونچا نظر آتا ہے یہ نیچے گرانے کے لیے اونچا کردیا ہے تاکہ ضرب اچھی طرح کھائے ان الله لایھدی القوم الکفرین
ایک معنی یقینا الله تعالیٰ کفر پر ڈٹے ہوئے لوگوں کو ھدایت نہیں کرتا القائمین بالکفر۔ القوم قوم کو قوم اس لئے کہتی کیونکہ یہ بات پر دٹی رہتی ہے
دوسرا معنی ان الله لایھدی القوم الکفرین یقیناً اللہ تعالیٰ کافروں کے مشن پروگرام کو کامیاب نہیں کرتا ان کا پروگرام کامیابی کو نہیں پہنچتا یہ کچھ دن کی بلندی کامیابی نہیں ہے فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۖ یہ ختم ہوجائے گا آج ہو یا کل اور حق کا بیان صحیح طریقے سے کرنا چاہیے۔