توحید کی حفاظت اور شرک سے امت کی اصلاح

لَقَدْ كَفَرَ الَّـذِيْنَ قَالُـوٓا اِنَّ اللّـٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَـمَ ۖ وَقَالَ الْمَسِيْحُ يَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اعْبُدُوا اللّـٰهَ رَبِّىْ وَرَبَّكُمْ ۖ اِنَّهٝ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّـٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّـةَ وَمَاْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ (72)
مسئلہ بیان کرنے کو ترغیب تھا اس آیت کریمہ میں نصاری کی ایک غلط عقیدے کی اصلاح ہے کہ ان کا ایک غلط عقیدہ تھا اور باوجود اس کے خود کو کامیاب مانتے اور دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات کے حقدار خو کو کہلواتے کہ ہم دنیا میں بھی عزت مند ہونگے اور آخرت میں بھی عزت مند ہونگے۔ قرآن کریم ان کی اصلاح کرتا ہے کہ آپ صحیح دین کے دعویدار ہے اور خود کو مسلمان کہلواتے ہو عیسیٰ علیہ السلام اور آخرت اور آسمانی کتاب مانتے ہیں حالانکہ آپ کا جو عقیدہ ہے وہ کفر کا ہے ااور آسمانی تعلیمات کے بلکل خلاف ہے تو اس کے ساتھ عزت اور نجات جمع نہیں ہوسکتی۔
جیسے ایک بندہ وہ ہو تو مسلمان اور اس کا یہ خیال ہے کہ میں مسلمان ہو پکا قرآن کریم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آخرت مانتا ہوں حالانکہ اس کا غلط نظریہ ، عقیدہ اور عمل ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ایمان خراب ہوتا ہے وہ اس پر دھوکا کہ میں مسلمان اور دنیا وآخرت دونوں میں عزت مند ہونگا حالانکے اپنے عقیدے کی خباثت سے خبر نہیں ہے تو اس کو خبردار کرو تاکہ اس کی اصلاح کرے اور غلط عقیدہ ختم کرے جو دعوی ہے تاکہ اس پر برابر ہوجائے۔
اگر آپ اس کو خبردار نہیں کرتے ہو اور باوجود اس کے آپ اس کی صفتیں کرتے ہو اور اس کے لئے جنت بتاتے ہو اور ساتھ میں کہتے ہو کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ہو اور اس کو یہ کہے کہ نجات اور جنت دنیا کی عزت آپکی ہے تو اپنے غلط نظریہ عقیدے اور فکر کا علاج نہیں کرے گا اور جب مرجائے تو آخرت میں تباہ وبرباد ہوگا۔ غلط نظریے سے خبردار کرنا یہ اس کے ساتھ احسان خیر خواہی اور بھلائی کرنا ہے۔
جیسے ایک مریض شدید مرض میں مبتلا ہے اور آپ اس کی صفتیں کرتے ہو کہ ماشاءاللہ بہت صحت مند ہو اور الله تعالیٰ نے زبردست صحت دیا ہے تو اس کے ساتھ مرض اور صحت کا فکر کبھی پیدا نہیں ہوگا نہ ڈاکٹر کے پاس جائے گا نہ دوائی کھائے گا اور نہ علاج کرے گا۔ جب آپ اس کو پورا خبردار کرتے ہو کہ آپ کا یہ مرض ہے تو خود پر شک اس کو آجائے گا اور خود پر سوچنے لگے گا پھر علاج کروانا شروع ہوجائے گا۔ اس طرح روحانی امراض ہے قرآن مجید الله تعالیٰ کی کتاب ہے اور امراض جانتا ہے۔
نصاری عیسی علیہ السلام کے امتی تھے اور کو نجات والا سمجھتے اور اپنے غلط عقیدے سے خبردار نہیں تھے۔ قرآن کریم فرماتا ہے ان کو مسئلہ پہنچاو اور ان کو گندگی سے خبردار کردو۔ نصاری توحید میں غلط ہوگئے تھے۔ عیسی علیہ السلام کے وفات سے تقریباً ستر سال بعد ایک یھودی ان کے پاس گیا ان کے دین کو خراب کرنے کے لیے وہ یھودی اپنا نام شادل تھا اور جب نصاری میں منتقل ہورہا تھا تو اپنا نام پولوس رکھا۔ اب عیسائیت کی تاریخ کا بڑا بندہ شمار ہوتا ہے اور نصاری اس کو اپنا امام مانتے آج دور کے تاریخ میں اس کا سینٹ پال نام ہے۔ اس نے عیسائیت میں غلط عقائد داخل کئے۔ ایک غلط عقیدہ عیسی علیہ السلام کی الوھیت کا داخل کردیا اس کو ایک فرقہ نے اپنا لیا جس کو فرقہ یعقوبیہ کہا جاتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی الوھیت کا عقیدہ تھا۔
بندہ میں کبھی کچھ کمالات یا صفات آجاتے ہیں تو بعض لوگ ان صفات پر دھوکہ کھاجاتے ہیں اور اور اں صفات کی وجہ سے اسکو خدا اور اله کہہ دیتے ہے جیسا عیسی علیہ السلام ہاتھ پھیرنے سے اندھے برض مرض والے ٹھیک ہوجاتے مردہ زندہ ہوجاتا تو نصاری نے کہا یہ تو خدائی کام ہے اور بندہ کرتا ہے تو یہ خدا ہے۔ حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ کہتے کہ عیسی علیہ السلام ہمارے سامنے پلا بڑھا ہے یہ اله نہیں ہوسکتا بلکہ الله تعالیٰ نے یہ معجزے دیئے یہ الله تعالیٰ کا بندہ اور پیغمبر ہے تو اس کو پیغمبر کی علامت مانتے تو اس سے انہوں نے خدائی کی صفات بنا دیئے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سامنے قرآن کریم تھا اور نصاری اور دیگر اقوام کی غلطیوں کو دیکھ رہے تھے تو اپنے قوم اور امت کو سمجھایا کہ ان صفات کی وجہ سے مجھے اپنے درجے سے اوپر نہ کرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحمت للعالمین ہے اور ایک بندہ کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمت للعالمین تھا اور الله بھی رحمت للعالمین ہے تو لھذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اله اور ہمارا معبود ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس راستے کو بند کرکے فرمایا:
لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ
مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے بلکہ میرے بارے میں عبدیت کا عقیدہ رکھو۔
بندے کو اپنے درجے سے اٹھانا اس کو گرانا ہے جیسے ایک زمیندار تو اس کو کہے ڈی سی صاحب آو یہ آپ اس کے پیچھے ہنستے ہو ایک دکاندار کو آپ کہے کہ مفتی آو بیٹھو یہ اصل میں اس کا درجہ گرانا ہے۔ بندہ کو خدا کہنا کہنے والا سمجھتا ہے میں اس کو اوپر کررہا ہو حالانکہ تو اس کو گرارہا ہے اس کی بے عزتی کررہے ہو۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موقع موقع پر یہ اصلاح کی تھی۔ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ وہ ہوتا جو الله تعالیٰ اور آپ چاہتے ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجایا:
أجعلتني لله ندا؟
کیا مجھے الله تعالیٰ کے ساتھ برابر کردیا؟ میرے مشیئت کو الله تعالیٰ کے مشیئت سے پیچھے ذکر کرو ایک ساتھ مت ذکر کرو۔
ایک موقع پر ایک شخص آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا أغثني يا رسول اللّٰه نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا:
انما لا یستغاث بی بل المستغاث ھو الله
فریادیں مجھے نہیں کی جاتی بلکہ چیخ وپکار جسے کیا جاتا ہے وہ الله تعالیٰ ہے۔
اور الله تعالیٰ سے دعا بھی کی:
اللَّهُمَّ لَا تجْعَل قَبْرِي وثنا يعبد
زندگی میں منع بھی کیا اور موت کے بعد کے لئے دعا بھی کی کہ الله تعالیٰ میرے قبر سے بت نہ بنا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تجعلو قبری عیدا
میرے قبر سے میلا نہ بناؤ۔
تو نصاری غلط ہوگئے عیسی علیہ السلام کو الوھیت اور خدائی کا مرتبہ دیا تو اس مرض پر ان کو سمجھاو تاکہ سوچ کرے اور علاج کی طرف متوجہ ہوجائے۔
لَقَدْ كَفَرَ الَّـذِيْنَ قَالُـوٓا اِنَّ اللّـٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَـمَ ۖ
تحقیق سے کفر کیا ان لوگوں نے جو کہتے کہ یقینا کارساز اور متصرف اختیار رکھنے والا وہ عیسی مریم کا بیٹا ہے۔
وَقَالَ الْمَسِيْحُ
قرآن کریم جواب کرتا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کے منہ سے کہ آپ عیسی کو خدا کہتے ہو زرا عیسی علیہ السلام کو سنو کہ وہ بندہ ہے یا اله تو عیسی علیہ السلام بندگی عبادت پورے کے پورا الله تعالیٰ کے لئے مانتا ہے کہ یہ پورا الله تعالیٰ کا حق ہے اور بندے تمام کے تمام الله تعالیٰ کے دربار میں عاجز ہے تو عیسی علیہ السلام دعوت دیتے ہیں الله تعالیٰ کی توحید کا کہ محبت ، ڈر ، طمع یہ سارے کے سارے صرف کے ساتھ کرو۔
تو قرآن کریم فرماتا مدعی سست گواہ چست آپ عیسی علیہ السلام کو خدا کہتے ہو حالانکہ عیسیٰ فرماتے میں نہیں ہو۔
وَقَالَ الْمَسِيْحُ يَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اعْبُدُوا اللّـٰهَ
عیسی نے فرمایا تھا اے بنی اسرائیل صرف الله کی عبادت کرو۔
رَبِّىْ وَرَبَّكُمْ ۖ
دلیل ذکر کیا میرا تربیت کرنے والا اور آپ کی تربیت کرنے والا عبادت اس کی ، کی جاتی جو رب ہوتا ہے اور میں تو رب نہیں بلکہ بندہ ہو۔
عبادت کے تمام قسمیں اور شاخوں کی دعوت دی کہ یہ صرف الله تعالیٰ کا حق ہے۔
اِنَّهٝ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ
توحید کے مقابلے میں شرک تھا صرف الله تعالیٰ کے ہوجاو اس میں الله تعالیٰ کے ساتھ شریک اور حصہ دار نہ بناو۔ عیسی علیہ السلام کا بیان عام ہے مَنْ ذکر کیا ہے کہ جو بھی ہو زمین کے سطح پر یہ نہیں کہ اس میں کنسیشن ہے کہ جس نے کلمہ پڑھا ہو یا الله تعالیٰ کی کتاب پڑھا ہو یا شناختی کارڈ مسلمان کا ہو پھر اس کا شرک معاف ہے بلکہ من جو بھی ہو حصہ دار الله تعالیٰ کے ساتھ بنایا۔
ادھر بھی عام ہیں جس چیز کو بھی حصہ دار بنایا یہ نہیں کہ ایک بندہ یہ کہے کہ خیر اگر فرشتے یا پیغمبر اللہ تعالیٰ کے ساتھ حصہ دار کرے کچھ بات نہیں وہ تو پاک مخلوق ہے خیر ہے کچھ بات نہیں یا شھداء من بھی عام یشرک بالله بھی عام جو کچھ الله تعالیٰ کے ساتھ حصہ دار کیا نہ پتھر کا بت نہ گوشت کا بت۔ پتھر کا بت الله تعالیٰ کے ساتھ حصہ دار بنانا حرام تو اس طرح گوشت کا بت بھی حصہ دار بنانا حرام ہے۔
پھر اس میں غلط لیڈر ہے غلط پیر ہے اور اسی طرح غلط معشوقے کہ ان کا آرڈر اس طرح مانا جاتا ہے جس طرح الله تعالیٰ کا مانا جاتا ہے۔ اس میں عھدہ ، زر اور پیسے ہیں کہ پھر اس کی وجہ سے لوگ حرام اور حلال کو نہیں دیکھتے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ،تعس عبد الدِّرْهَمِ،
ڈالروں ، سونے اور چاندی کا غلام تباہ ہوجائے۔
عبد الدینار کہا دوسرے حدیث میں عبد المرء کہا کہ لڑکیوں کا غلام تباہ ہوجائے کہ الله تعالیٰ کے احکامات پر قدم رکھتا ہے اور غلط دوستیاں کرتا ہے۔ دوسرے حدیث میں عبد الْخَمِيصَةِ آیا اور عبد الخبیثۃ راحتوں کا غلام تباہ ہوجائے۔
تو الله تعالیٰ کے ساتھ حصہ دار نہ بناو جس مخلوق کو آپ نے خدائی کے نظر سے دیکھا اور دل میں اس طرح جگہ دیا کہ الله تعالیٰ سے اوپر کردیا اس کی رضا عزت آپ کو الله تعالیٰ کے رضا سے بھی اوپر ہو تو آپ نے الله تعالیٰ کے ساتھ اس کو حصہ دار کیا۔
اور جس کا یہ نظریہ ہوا تو قرآن فرماتا جنت حرام دوزح جگہ ہے۔ قرآن کریم اصل اخرت کی اصلاح کی طرف بہت توجوں دیتا ہے دنیا کے نسبت ورنہ جدھر قرآن جنت ذکر ادھر دنیاوی ترقی اور جدھر دوزخ ادھر دنیاوی تنزل بھی مراد ہوتا ہے۔
جس نے شرک کیا وہ دنیا میں ترقی یافتہ قوم نہیں ہوسکتا وہ عزت کے آسمان سے نیچے گرے گا ظاھر میں کچھ دن اوپر نظر آتا ہے اس پر دھوکہ نہ کھاو۔
اَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءًۚ
یا
فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ
تو مشرک قوم وہ ترقی کو نہیں پہنچ سکتے پھر مسلمانوں میں یہ مرض داخل ہوجائے تو بہت خطرناک ہے۔ اس کی اصلاح ضروری تھا عقائد کی اصلاح کہ لوگوں کی عقائد سے ہر قسم شرک ختم ہو جائے اور عقیدہ ٹھیک ہوجائے۔
فَقَدْ حَرَّمَ اللّـٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّـةَ وَمَاْوَاهُ النَّارُ ۖ
یقینا الله تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کیا الجنت ھی دار المتقین جو نیک لوگوں کی جگہ ہے اور اس کی جگہ دوزح ہے۔
وَمَا لِلظَّالِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ
یہ یا ادخال الھی ہے یا عیسی علیہ السلام کا بیان ہے کہ یہ بندہ ظالم ہوگیا۔ ایک الله تعالیٰ کے حق میں ظلم کہ الله کا حق مخلوق کو دیا دوسرا ظلم بندے کے حق میں اس کو اپنے مرتبے سے اوپر کیا تیسرا معاشرتی ظلم جب شرک ایک معاشرے میں شروع ہوجاتا ہے تو اس میں طبقاتی نظام شروع ہوجاتا ہے پھر غریبوں اور مظلوموں پر ظلم شروع ہو جاتا اور ظالموں کا راج ہوتا ہے تو پھر ایسوں کو کوئی الله تعالیٰ سے نہیں چھڑا سکتا نہ زور پر نہ شفاعت کے طریقے سے لا بطریق المغالبۃ ولا بطریق الشفاعۃ۔
وَمَا لِلظَّالِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ
اور نہیں ہے ظالموں کے لئے کوئی مددگار۔