توحید، تثلیث کا رد، اور الوہیت کی وحدت

لَّقَدْ كَفَرَ الَّـذِيْنَ قَالُـوٓا اِنَّ اللّـٰهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ۘ وَمَا مِنْ اِلٰـهٍ اِلَّآ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ ۚ وَاِنْ لَّمْ يَنْتَـهُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ (73)
نصاری توحید کے باب میں غلط ہوگئے تھے الله رب العزت کی معرفت میں اور الله رب العزت کی توحید میں غلط ہوگئے تھے ایک گروہ کہتی تھی کہ الله تعالیٰ عیسی علیہ السلام کے شکل میں ظاھر ہوا ہے تو عیسی علیہ السلام اله ہے حلولیہ اور اتحادیہ فرقہ تھا کارساز اور متصرف عیسی علیہ السلام کو سمجھتے تھے ان کو یعقوبیہ کہا جاتا تھا دوسرا تیسرا گروہ نصاری ملکانیہ نسطوریہ ہیں ایک کا عقیدہ یہ تھا کہ عیسی علیہ السلام ابن الله ہے اور وہ ال الوھیت کو تین بگہ تقسیم کرتے تھے ایک الله تعالیٰ کو مانتے تھے دوسرا عیسی علیہ السلام اور تیسرا مریم بی کو مانتے تھے یہ ابنیت کے قائل تھے کہ عیسی علیہ السلام نعوذ بالله الله تعالیٰ کا بیٹا ہے سورۃ التوبه میں ان کا عقیدہ صراحتاً ذکر کیا ہے وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِؕ دوسرا نسطوریہ تثلیث کے قائل تھے وہ یہ کہتے تھے کہ خدا تین ہے انہوں نے الوھیت کو تقسیم کرکے تین جگہ کردیا تھا اقانیم ثلاثہ اصول ثلاثہ مانتے تھے کہ خدائی کے تین اصول ہے ایک الله تعالیٰ کی ذات ہے دوسرا علم ہے تیسرا حیاۃ ہے ذات الله تعالیٰ کی اپنی جگہ مانتے تھے اور کہتے کہ علم عیسی علیہ السلام کو منتقل ہوا ہے اور حیاۃ منتقل ہوا ہے جبرائیل علیہ السلام کو تو خدا تین ہے ایک الله تعالیٰ کی ذات ہے تو ایک اله وہی ہے دوسرا علم کا کام جس کو حوالہ ہوا ہے اور علم کی اصل جس کو منتقل ہوا ہے وہ عیسی علیہ السلام ہے اور تیسرا حیات کی صفت ہے یہ جبرائیل علیہ السلام کو منتقل ہوا ہے تو خدائی کو تین جگہ کردیا تثلیث کا یہ اصل عقیدہ یونانیوں کا تھا وہ تین اصول کے قائل تھے خدا ، روح اور مادہ وہ اس کے قائل تھے روح کو مستقل متصرف کہتے تھے کائنات میں اور مادہ کو بھی مستقل متصرف مانتے تھے تو مادیت میں بھی خدائی مانتے تھے اور ایک اله خدا تھا ان تین اصول کے قائل تھے جب روم کو نصارنیت منتقل ہوا اور رومیوں نے عیسائیت کو مان لیا تو عیسائی توحید کی تشریح اس طور پر کرتے کہ یہ رومی مان لے تو وہ تو تثلیث کے قائل تھے خدا ، روح اور مادے کے تو انہوں نے اپنے عقائد میں تاکہ یہ رومی صحیح طریقے سے عیسائیت مان لے اس کے تشریح کے لیے توحید کی غلط تشریح کردی اور عیسائیت میں تثلیث کو اندر کردیا تو اگر ایک بندہ انگریزوں یا یورپ سے متاثر ہو کے اپنے مرضی سے اسلام کی غلط تشریح کردے جیسے سرسید اور اس کے ساتھی تو پھر اس کے لیے اسلام کے شکل کو خراب کردیتے ہیں اور اسلام میں فرقے پیدا ہوکے جھگڑے شروع ہوجاتے کہ فلاں یہ مانتا ہے اور آپ نہیں مانتے ہو اور فلاں یہ نہیں مانتا اور آپ مانتے ہو بعض کام مجبوری کی وجہ سے ہوجاتے ہیں تو اس کی وجہ سے اسلام اصلی دین کی اسلامی شکل کو خراب نہ کرو یہ تثلیث ھندوں میں بھی تھا خدا روح مادہ وہ بھی تین اله کو مانتے تھے برہما ، وشن ، مہادیو باقی ان تین کے شاخ تھے خدا کو برہما کہتے ہیں روح کو وشن کہتے ہیں اور مادہ کو مہادیو کہتے ہیں یہ ان کے بھی نظریات تھے اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ الوھیت نہ تثلث اور نہ تجزی قبول کرتا ہے الوھیت یہ زیادہ ہونا بھی قبول نہیں کرتا جیسے سورت الانبیاء میں فرمایا لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَاۚ اگر زمین اور آسمان میں دوسرا اله ہوتا تو یہ تباہ وبرباد ہوجاتا بنی اسرائیل میں فرمایا قُل لَّوْ كَانَ مَعَهُ آلِهَةٌ كَمَا يَقُولُونَ إِذًا لَّابْتَغَوْا إِلَىٰ ذِي الْعَرْشِ سَبِيلًا
سورت مومن میں فرمایا
مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَٰهٍ ۚ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ
تو تکثر بھی نہیں ہے کہ خدا زیادہ ہو اور تجزی بھی نہیں ہے کہ یہ ایک الوھیت تقسیم ہوجائے کہ کچھ ایک کو حوالہ کچھ دوسرے کو حوالہ ہوجائے
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ تقسیم نہیں ہے کہ الوھیت تقسیم ہوجائے اور کام تقسیم ہو جائے جسیے مکہ کے مشرک کہتے إِلَّا شَرِيكًا تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ ایک شریک ہے جس کو اپنے اختیار دیا ہے الله تعالیٰ نے ایک صفات بھی کیسی کو نہیں دیا ہے وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا جو فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اس فیصلہ میں شریک اور حصہ دار نہیں ہے تو یہ الله تعالیٰ کا فیصلہ ہے وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا إِلَٰهٌ وَاحِدٌ نیابت ، تجزی الوھیت میں تقسیم یہ سب کچھ نہیں تو دونوں قسم کا تثلیث باطل تھا خواہ وہ اصول کے ساتھ مانتے تھے اور کلیت مانتے تھے کہ خدا تین ہیں اور یا تجزی مانتے کہ خدا بابیٹا یہ تجزی مانتے تھے خداون باپ خداون بیٹا تو وہ تقسیم تجزی بھی باطل اله وہی ہوتا ہے جس میں وحدانیت ہو نہ اس میں تکثر ہو اور نہ تجزی ہو الوھیت ایک اکائی وحدت ہے یہ تقسیم کو قبول نہیں کرتا نہ ذاتا نہ وصفا ذات بھی کسی کو نہیں دوگے صفات بھی کسی کو نہیں دوگے نہ امور تکوینیہ میں اور نہ امور تشریعیہ میں یہ نہیں کہوگے کہ عالم الغیب الله تعالیٰ بھی ہے اور پیغمبر بھی ہے یہ بھی نہیں کہوگے کہ بغیر اسباب کے بیماری ٹھیک کرنے والا مشکلیں دور کرنے والا الله تعالیٰ بھی ہے اور دوسرا بھی کوئی اس طرح ہے اولاد الله تعالیٰ بھی دیتا بارش بھی الله برستا ہے لیکن درگاہ سے بھی ہوسکتا ہے یہ امور تکوینیہ میں خدائی کو تقسیم کرنا ہے امور تشریعیہ میں بھی خدائی کو تقسیم نہیں کرنا یہ نہیں کہ غم اور خوشی میں پٹھان ہو اور حکومتی قانون میں انگریز ہو لاتقولو ثلثۃ خدائی کو تقسیم نہ کرو اله فقط الله ہے تو محبت ، ڈر اور طمع کی جگہ بھی الله ہے عبادت صرف اسی کی کرو کارساز متصرف الله تعالیٰ ہے تو حاجات بغیر ظاھری اسباب کے اسی سے مانگو حاکم مطلق بادشاہ الله تعالیٰ ہے تو نظام اسی کی چلاؤ ساری زندگی میں تقسیم نہ کرو اسی کو حنفیت کہتے کہ اس میں تقسیم نہیں ہوسکتی تو یہ ایک غلط نظریہ تھا یونانیوں ، عیسائیوں اور ھندو کا پھر صفات کے طریقے پر دوسرے اقوام میں بھی منتقل ہوا کہ الله تعالیٰ کی الوھیت کی صفات کو تقسیم کردیا کچھ زیارات درگاہوں کو دیا اور حاکمیت مطلقہ زندوں کو دیا أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ کچھ حصہ الله تعالیٰ کے لئے چھوڑ دیا کہ مسجد میں نماز پڑھے گا یہ تقسیم الوھیت کا باطل ہے یہ نہ کرو قرآن کریم سزا ذکر کرتا ہے کہ دلیل کی زبان پر اگر کوئی نہیں سمجھے تو پھر آگ سے اسے سمجھائے گے لَيَمَسَّنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ کہ الله تعالیٰ اس کو درد پریشان کن حالات اس پر لا کے درد دے گا توبہ کی دعوت دے رہے کہ عذاب سے پہلے توبہ کرو ویسے نہ پھر موقع نہ ملے
لَّقَدْ كَفَرَ الَّـذِيْنَ قَالُـوٓا تحقیق سے کفر کیا ہے ان لوگوں نے جو کہتے یعنی عقیدہ یہ ہے اِنَّ اللّـٰهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ۘ یقینا الله تیسرا تیسروں میں سے ہے وَمَا مِنْ اِلٰـهٍ اِلَّآ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ ۚ اسی عقیدہ پر رد کہ تقسیم الوھیت اور تعدد الوھیت باطل ہے کہ اله زیادہ ہوجائے یا ایک الوھیت تقسیم ہوجائے اور نہیں کسی قسم کا اله مگر صرف ایک اله اس کے بعد زجر کہ دلیل کی زبان کو سمجھو نصیحت پر عمل کرو اور نہ پھر تپھڑ ملے گا وَاِنْ لَّمْ يَنْتَـهُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ اگر یہ منع نہیں ہوئے جو یہ کہتے ہیں لَيَمَسَّنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ خامخا پہنچے گا ان لوگوں کو جنھوں نے انکار کیا ان میں سے عذاب درد دینے والا منھم یا من بیانیہ کافروں میں سے کچھ کہ یہ عقیدہ تھا یا بعض ضدی تھے تو انہوں نے نہیں مانا اور بعض نے دعوت اور دلیل کی زبان پر مانا تو جنھوں نے نہیں مانا تو ان کے لئے عذاب الیم عذاب دردناک ہے تو جو الوھیت کو تقسیم کرے الله تعالیٰ ان کو سزا دے گا أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ آیا یہ نہیں لوٹتے الله تعالیٰ کی طرف کہ آئندہ وقت خود کے لئے ٹھیک کرے وَيَسْتَغْفِرُونَهُ ۚ اور بخشش مانگے الله تعالیٰ سے پچھلے گناھوں کی معافی مانگ لے
استغفار پچھلے گناہ کا بخشش مانگنا ہے اور توبہ آئندہ کی اصلاح کرنا توبہ بہت سے لوگ مانگتے ہیں لیکن آنے والے وقت کی اصلاح کم لوگ کرتے بخشش مانگو اللہ تعالیٰ سے اور آنے والے وقت کی اصلاح کرو وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ اور الله تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے تمام گناہ معاف کردے گا مھربان بادشاہ ہے شرک اور دشمنی الله تعالیٰ کے ساتھ کیا ہے لیکن ملامت اور افسردہ ہوا تو الله تعالیٰ پھر بھی معاف کرتا ہے۔