اتباع الھوی اور بنی اسرائیل کا انجام

كُلَّمَا جَآءَهُـمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَـهْوٰٓى اَنْفُسُهُـمْ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ (70) وَحَسِبُـوٓا اَلَّا تَكُـوْنَ فِتْنَـةٌ فَـعَمُوْا وَصَمُّوْا ثُـمَّ تَابَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ ثُـمَّ عَمُوْا وَصَمُّوْا كَثِيْـرٌ مِّنْـهُـمْ ۚ وَاللّٰهُ بَصِيْـرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ (71)
بنی اسرائیل اصلاح کے لیے الله رب العزت نے پیغمبر اور انبیاء کرام بھیجے اور ان سے لوظ بھی وعدہ بھی لیا تھا کہ آپ پیغمبروں کی تابعداری کروگے اور جو نظام اور کتاب الله تعالیٰ آسمان سے اتارے اس کی تابعداری آپ پر ضروری ہے ااب ان کی انکار اور انبیاء کرام کی ناقدری ذکر کرتے ہیں اس کا سبب ذکر کرتے ہیں کہ وہ اتباع الھوی تھا اتباع الھوی خواھشات کی تابعداری اتباع الھوی اس کی وجہ سے پیغمبروں سے انکار کیا اور اس کی وجہ سے پیغمبروں کو شھید کیا اور اس کی وجہ سے پیغمبروں کی تکذیب کرتے تھے حضرت تھانوی رحمہ الله ذکر کیا تمام گناھوں کا جڑ خواھشات کی تابعداری اتباع الھوی ہے جب ایک بندے پر نفس غالب ہوجائے تو الله رب العزت کی ھر نافرمانی کرتے ہیں اس وجہ سے اھل الله محنت کرتے ہیں کہ نفس کمزور ہوکے خواھشات دب جائے اس کے لئے اذکار اشغال مراقبے ریاضتیں کرتے ہیں تاکہ نفس کمزور ہو اور کسی عمل میں نفس کی آمیزش اور ملاوٹ نہ ہو جب نفس غالب ہو جائے پھر روح کے تقاضے کمزور پڑجاتے ہیں پھر شریعت پر عمل انتھائی مشکل ہوجاتا ہے اور بعض کو پھر وہ فضول نظر آتا ہے پھر الٹا مقابلہ شروع کردیتے ہیں یہی حال تھا بنی اسرائیل کا کہ ان پر خواھشات غالب ہوگئے تو انبیاء کرام کی نافرمانی شروع کردی اور صرف نافرمانی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ انبیاء کرام کو جھوٹ کا نسبت کیا اور جس پر طاقت چلا ان کو شھید کیا یہ اتباع الھوی کی وجہ تھی كُلَّمَا جَآءَهُـمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَـهْوٰٓى اَنْفُسُهُـمْ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ ہر دفعہ جب ان کے پاس آتا پیغمبر ساتھ ان مسائل کے باء للملابسۃ یا باء لتعدیۃ اس وقت جب لاتا ان کے پاس پیغمبر وہ کتاب وہ قانون جو ان کی طبیعت نہیں چاھتا ان کی خواھش کے خلاف ہوتا شریعت خواھشات کی توڑ ہے اور انسانیت کی ترقی ہے انسان میں ایک حیوانیت کا پن ہے اس میں ایک قسم کی حیوانیت ہے بعض خواھشات اور ضروریات میں یہ اور جانور ایک طرح ہے جیسے خوراک کھانا پینا مسکن گھر کی ضرورت شھوۃ نفسانی شھوۃ الفرج شھوۃ البطن اس میں انسان بقایا جانوروں کی طرح اور دوسرا انسان میں انسانیت ہے جو روحانیت ہے وہ آسمانی رحمانی طرف ہے جب انسان پر زمین کا طرف زرور ہوجاتا ہے اور وہ اسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے تو جس جانور کا رنگ اس پر غالب ہوگیا تو پھر وہی نظر پر آتا ہے کالانعام ہوجاتا ہے یا فمثله کمثل الکلب ہوجاتا ہے یا کمثل الحمار ہوجاتا ہے جب آسمانی اپناتا ہے تو انسان کی حیوانیت کی اصلاح اس پر ہوجاتی ہے تو آسمانی تعلیم یہ نہیں کہتا کہ خوراک نہ کرو یا پیو مت بلکہ کہتا ہے کہ انسانوں کی طرح کرو یا نہیں کہتا خواھش پورا نہ کرو بلکہ کہتا ہے انسانیت کی طریقے پر کرو ھر چیز کی اصلاح کرلیتا ہے اور الله تعالیٰ کے طرف جانے کا طریقہ سکھا دیتا ہے تو اس میں توڑا برابر کرنا ہوتا ہے انسان کو اپنی مرضی پر نہیں چھوڑتا کہ اپنی مرضی کرو جب انسان یہ کہتا کہ میرا اس تعلیم کو حاجت نہیں میرا اپنا طبیعت تو اس پر خواھشات غالب ہوجاتے ہیں تو جو اس کو خواھشات کی خلاف بات کرتا ہے اور نفسانی خواہشات کی توڑ کی بات کرتا ہے وہ اس کا دشمن ہوتا ہے خواہ نبی ہو عالم ہو داعی ہو تو وہ اس کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ نظر آتا ہے اور اس کی محنت ہوتی ہے کہ یہ رکاوٹ ہٹادو کہ یہ رکاوٹ درمیان سے ہٹادو فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ یہ کہتے کہ یہ ہماری ترقی کے راہ میں رکاوٹ ہے ہمیں دیوار ہے اس کو ہٹانا چاہئے كُلَّمَا جَآءَهُـمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَـهْوٰٓى اَنْفُسُهُـمْ ھر دفعہ جب ان کے پاس لاتا پیغمبر وہ دین وہ کتاب جو ان کی طبیعت نہیں چاھتا تھا فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ اصل میں جزاء محذوف ہے عَصَوھم تو یہ ان کی نافرمانی کرلیتے سوال آیا کہ نافرمانی کی تو مافعلو بالرسل انبیاء کرام کے ساتھ کیا کیا تو جواب دیا فَرِيْقًا كَذَّبُوْا ایک گروہ کو جھوٹا جانا انھوں نے ان کو نسبت جھوٹ کا کیا کئی پیغمبروں کو نسبت جھوٹ کا کیا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ اور دوسرا گروہ قتل کرتے تھے یہ فریقا بمعنی ماضی ہے کیونکہ کذبو پر عطف ہے شکل مضارع کا لایا مطلب اب بھی ان کا بس چلے تو نبی کو قتل کرے گے مطلب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی ارادہ رکھتے تھے کہ اس کو قتل کیا جائے معنی ماضی کا ہے شکل مضارع میں لایا کہ اب بھی حق پرست کو قتل کرنے سے نہیں روکتے اب بھی جو ان کی خواھش کی خلاف کرتا ہے تو ان کی خواھش ان کا خدا ہے تو جو خدا کا خلاف کرتا ہے اس کو قتل کیا جاتا ہے انبیاء کرام کو شھید کیا گیا زکریا ، یحییٰ علیھما السلام کو شھید کیا گیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو شھید کیا اپنے خیال میں باقی وہ تو الله تعالیٰ نے اس کو بچالیا تھا اور دوسرے گروہ کو قتل کرتے تھے یہ وَحَسِبُـوٓا اَلَّا تَكُـوْنَ فِتْنَـةٌ ایک بندہ ایک غلطی اور ایک گناہ کرتا ہے اور اس کو یہ معلوم ہو کہ میرا غلطی غلطی ہے تو اس کو کبھی ڈر دل میں آجاتا ہے کہ اے بندہ کہ اگر الله تعالیٰ نے پکڑ کے مجھے سزا دیا یہ بھی ایک چھپا اعلان الله تعالیٰ کی طرف سے بس کرو توبہ نکالو یہ کو انبیاء کرام کی تکذیب کرتے اور پیغمبروں کو شھید کرتے ان کو پتہ تھا کہ یہ ہم غلطی کرتے ہیں وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّۙ ادھر ذکر کرتے ہیں کہ بغیر حق عندھم ان کو پتہ کہ یہ بے جرم اور ہم قتل کرتے ہیں لیکن دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ اگر الله تعالیٰ نے ہمیں پکڑلیا وجہ کیا تھی وجہ یہ کہتے تھے نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗؕ کہ ہم انبیاء کرام کی اولاد اور سید ہیں تو ہمارا ایک گناہ آدھ گناہ کا پتہ نہیں چلتا الله تعالیٰ ہمیں معاف کرے گا ہمیں پکڑتا نہیں ہے ہم الله تعالیٰ کے محبوب ہیں الله تعالیٰ ان کو مھلت دیتے تو یہ مھلت کو یہ رنگ دیتے جیسے اب بعض کہتے کہ یم سید ہے اور بعض کہتے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری شفارش کرے گا نہ اور ہم جو سال میں ایک دفعہ عید میلاد النبی مناتے تو جو عید میلاد النبی مناتا ہے اس کے گناہ کہا ٹھر سکتے ہیں ہم فلاں کام کرتے فلاں کام کرتے ہیں تو اس میں ہمارے گناہ کا کچھ پتہ نہیں چلتا تو گناہ پر بھادری کرکے اس کو کرتے ہیں یہ نہیں کہتے کہ یہ سبب عذاب اور ابتلاء بنے گا اور ایک کاعذی جنت اور کاعذی سرٹیفیکیٹ اپنے گمان سے الله کے ہاں بنوایا ہوتا ہے کہ الله ہمیں معاف کرے گا یہ بنی اسرائیل اور یھودیوں کی طبیعت تھی جب بندے کے دل میں یہ خیال آجائے کہ میں طالب ہو الله تعالیٰ کی رضا کے لیے صبح کی چائے چھوڑ جر سبق کے لئے آتا ہوں اور سارا دن فرش پر بیٹھ کر گزارا کرتا ہوں اور سبق پڑھتا ہوں روٹی کبھی ٹھنڈی کبھی گرم تو اگر میں نے فلم دیکھ لیا تو کیا ہوگیا میں نے کارٹون دیکھ لیا یا گیم کرلیا تو کیا ہوگیا یہ مجھے الله تعالیٰ معاف کرے گا ملا کہے کہ میں سارا دن درس تدریس بیانات کرتا ہوں لوگوں کو ، لوگوں کو الله کی دین کی طرف بلاتا ہوں اس میں گناہ آدھ گناہ کا کیا پتہ چلتا ہے ہمیں گناھوں پر نہیں پکڑے گا اگر نماز چھوڑے یا فیسبک کرلے یا یہ کرلے وہ کرلے اس میں اس کا پتہ نہیں چلتا اس کا نتیجہ گناھوں پر بھادر ہوکر دل کالا ہوجاتا ہے امام غزالی رحمہ الله نے کیمیائی سعادت میں گناہ میں ترقی کہ یہ ایک وجہ یہ ذکر کیا ہے کہ بندہ اپنے بعض اعمال پر دھوکہ ہوجاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ مجھے گناھوں پر کچھ نہیں کہے گا تو اس بھانے سے شیطان اس کو گناہ میں اندر کرلیتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل اے گناھوں کی قباحت نکل جاتی وَحَسِبُـوٓا اَلَّا تَكُـوْنَ فِتْنَـةٌ اور انھوں نے گمان کیا کہ نہیں ہوجائے گا عذاب فتنۃ بمعنی عذاب آتا ہے جیسے سورت ذاریات میں آتا ہے ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْؕ-هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ یعنی ذوقو عذابکم ادھر بھی فتنہ بمعنی عذاب خیال کیا اور گمان کیا کہ نہیں ہوجائے گا یہ عذاب یا فتنۃ بمعنی اختلاف باعتبار الشدائد نہیں ہوجائے گا یہ امتحان سختیوں اور مشقتوں کا مطلب اس وجہ سے الله تعالیٰ ہم پر امتحان اور سختیاں نہیں لائے گا فَـعَمُوْا وَصَمُّوْا تو گونگے اور بھرے ہوگئے یہ دل کی اندھاپن اور گونگاپن مراد ہے فعمو عن الدین والدلائل وصمو عن استماع الحق دل کے کان بھرے اور آنکھ اندھے ہوگئے تو الله تعالیٰ مھربان بادشاہ ہے تو اس حالت پر نہیں چھوڑا پھر الله تعالیٰ نے مھربانی کی پیغمبر بھیجے ثُـمَّ تَابَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ الله تعالیٰ نے انبیاء بھیجے ثُـمَّ عَمُوْا وَصَمُّوْا كَثِيْـرٌ مِّنْـهُـمْ ۚ تو پھر گونگے اور بھرے ہوگئے زیادہ ان میں سے ایک قول یہ ہے اول انبیاء آئے تو یہ گونگے بھرے ہوگئے تو الله تعالیٰ نے بخت نصر کو ان پر مسلط کیا بہت سو کو قتل اور بہت سو کو قید کیا تو جب قید میں ضمیر بیدار ہوگیا اور سچی دل سے الله تعالیٰ کے حضور روئے تو الله تعالیٰ نے ذوالقرنین کو بھیجا بخت نصر پر حملہ کیا اور ان کو آزاد کروایا اور ان کو لا کر بیت المقدس آباد کیا تقریباً تیس سال میں شھر کی آبادی مکمل ہوکے پھر انبیاء آئے تو انھوں نے دوبارہ وہی کام شروع کیا انبیاء کی تکذیب کی زکریا ، یحیی علیھما السلام کو شھید کیا اور عیسیٰ کے قتل کا ارادہ کیا پہلے دفعہ کثیر نہیں کہا مطلب سارے اسطرح ہوگئے دوبارہ الله انبیاء بھیجے تو ان میں ٹھیک تھے تو دوسری دفعہ کثیر کہا جیسے پہلے کہا منھم امۃ مقتصدۃ مطلب آپ ان کی اصلاح کرو شاھد الله تعالیٰ ان کو ٹھیک کرے دوسرا قول اول فعمو وصمو یہ باقی انبیاء عیسیٰ علیہ السلام تک اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان کو ماننا چاہئے تھا لیکن انھوں نے انکار کیا کثیر منھم بدل ہے واو سے عمو وصمو میں جو ہے یا راء علامت جمع اور کثیر فاعل ہے تو تکرار فاعل نہیں اسرو النجوی الذین ظلموا کے قبیل سے ہے اکلنی البراعیث کے قبیل سے ہے وَاللّـٰهُ بَصِيْـرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ فیجازیھم باعمالھم الله تعالیٰ دیکھتا ہے تو یہ نہیں کہ صرف دیکھتا بلکہ یہ دیکھنا بدلے کے لئے تو الله تعالیٰ ان کو بدلہ دے گا