ایمان، عمل صالح اور حقیقی کامیابی کا معیار

اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَالَّـذِيْنَ هَادُوْا وَالصَّابِئُـوْنَ وَالنَّصَارٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ (69) لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ وَاَرْسَلْنَـآ اِلَيْـهِـمْ رُسُلًا ۖ كُلَّمَا جَآءَهُـمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَـهْوٰٓى اَنْفُسُهُـمْ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ (70)
پہلے اھل کتاب کو دعوت دی کہ دنیا اور آخرت میں ترقی اور کامیابی چاہتے ہو تو اس کا ذریعہ اقامت ہے قانون الہی کا کہ الله رب العزت نے جو قانون آسمان سے اتارا ہے تو وہ قانون عملی کرو زمین پر اور اسکو عمل میں لاو۔ اب بشارت دے رہے ہے کہ ڈلہ بازی پر نہیں ہوسکتا اور القابات پر نہیں ہوسکتا اصل چیز اصلاح ہے باطن اور ظاہر کی۔ اگر ایک شخص صرف مسلمان کا نام استعمال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں مسلمان ہو لیکن باطن کی اصلاح نہ کی ہو اور ظاہر کردار شریعت کے برابر نہیں کیا ہو تو صرف ایمان کا دعوی کچھ فائدہ نہیں کرتا۔
اسطرح ایک بندہ یھودیت کے نام پر یا نصرانیت کے نام پر یا صابیئت کے نام پر فخر کرتا ہے اور اس نام میں نجات مانتا ہے کہ میں اس پر کامیاب ہوگا اور دنیا میں مجھے اسی پر ترقی ملی گی تو یہ سوچ غلط ہے۔ کامیابی کا مدار القابات نہیں ہے نامیں نہیں بلکہ کامیابی کا مدار کردار ہے۔ بنیاد بھی ٹھیک ہو، عقیدہ بھی ایمان ٹھیک ہو اور مضبوط ہو اور اسی ایمان کے موافق اعمال ہو اور اسی کے روشنی میں کردار ہو جس کو عمل صالح کہا جاتا ہے تب کامیابی ہوگی۔
صرف نام پر ایک بندہ خود کو مومن کہتا ہے اس پر کامیابی نہیں ملتی۔ علامہ اقبال ایک جگہ فرماتے ہیں
تم سراپا گفتار وہ سراپا کردار
تم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بہ کنار
آپ کی باتیں صرف منہ کی حد تک ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کردار تھا، آپ کو اب تک ایک کلی نہیں ملی اور وہ باغات میں رہا کرتے۔
تمھیں اپنے آباء سے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تم گفتار وہ کردار
تم ثابت وہ سیارا
آپ نے اپنے اسلاف سے رشتہ کاٹ دیا ہے کیونکہ وہ ایمان اور عمل صالح سیکھاتے اور دیکھاتے اور آپ نے صرف منہ کا زینت بنایا ہوا ہے۔ ایمان نہ معاشرہ میں ہے نہ آپکے کردار میں، صرف نام سے نہیں ہوتا بلکہ کردار ضروری ہوتا ہے۔
دوسرا آیت میں اشارہ کہ اقامت تورات اور انجیل کا کیا ہے؟ تو من اٰمَنَ وعمل صالح یعنی صرف مطالعہ نہیں بلکہ مشاہدہ ہے اسلام کا۔ یہ نہیں کہ صرف سٹڈی اور ریسرچ اسلام کا ہو بلکہ اٰمَنَ وعمل صالح، بنیاد کو ٹھیک کردو اور عمل، کردار کو صالح کردو، اس سے معاشرے میں صلاحیت پھیلتی ہے۔
تیسرا جنھوں نے اقامت کیا ان کو بشارت دیا جارہا ہے۔ ایک یہ کہا کہ ڈلہ بازی اور ناموں پر دھوکہ نہ کھاو۔ اکثر آسمانی کتاب کے حاملین ہوتے، قرآن کریم پر ایمان ہوتا ہے یا اپنے وقت میں تورات اور انجیل پر تو ایمان ہوتا لیکن پیچھے صرف نام اور قصے رہ جاتے اور اس پر دھوکہ میں رہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی اور قرآن والا ہو تو اس نام پر نہیں، صرف نجات نہیں ہے۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَالَّـذِيْنَ هَادُوْا وَالصَّابِئُـوْنَ وَالنَّصَارٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنون یقینا وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں یعنی لقب ایماندار کا ہے اور وہ لوگ جو یھودی ہے جو موسی علیہ السلام کو خود منسوب کرتے ہیں، اور فرنگی جنھوں نے ان میں سے ایمان لایا اور عمل کیا نیک تو نہیں ہوگا ان پر ڈر اور نہ غمگین ہوگے۔ اور صابیئون بھی اسی طرح ہے۔
صابیئون کو درمیان میں مرفوع لایا، باقی منصوبات ہے اسم ہے اِنّ کا الذین آمنو، معطوف ہے والذین ھادو، والنصاری اسی پر عطف ہے تو وہ بھی منصوبات ہے تو والصابیئون والصابیئن ہونا چاہئے تھا کہ اس پر عطف ہوجائے لیکن اس کو مرفوع لایا اور عطف اِنّ کے محل اسم پر ادھر صحیح نہیں ہوسکتا۔ وہ تب صحیح ہوسکتا ہے جب خبر کا مضئی ہوا ہو پہلے جب اسم اِنّ خبر پر تام ہو پھر عطف صحیح ہوسکتا ہے جیسے وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا۔
تو ان وعد الله حق، ادھر اسم خبر پر تام ہوا تو والساعۃ عطف ہے وعد الله پر یعنی محل اسم ان پر بعد مضئی الخبر، و الساعةُ اور و الساعةَ دونوں جائز ہے، مضموم پڑھنا افضل ہے کیونکہ عطف محل اسم ان پر بعد مضئی الخبر اولی ہے عطف سے لفظ پر جیسے فان احسن الحدیث کتاب الله وخیرُ الھدی، تو خیرُ اولی ہے، خیرَ جائز ہے کیونکہ خبر پہلے گزر چکا ہے۔
تو والصابیئون عطف محل پر جائز نہیں اور مرفوع آیا ہے، باقی جب ختم ہوجاتے تو یہ والصابیئون مستقل کلام ہے کہ والصابیئون کذلک اور صابیئن کا حکم بھی یہی۔ تو یہ لایحزنون سے پیچھے ہیں لیکن پہلے ذکر کیا ہے اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَالَّـذِيْنَ هَادُوْا وَالنَّصَارٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ وَالصَّابِئُـوْنَ کذلک۔
اور صابیئن کا بھی یہی حکم۔ اس میں نکتہ ہے، نکتہ یہ ہے کہ یہود آسمانی کتاب کے پابند تھے، نصاری آسمانی کتاب کے پابند تھے اور بہت سے کام ان کے الله کے دین کے ساتھ برابر تھے تو ان کو دعوت دی ایمان اور نیک عمل کا۔ صابیئن ان پچھلے فرقوں میں بہت گمراہ تھے، بت پرست، ملائکہ پرست، کواکب پرست تھے، شرکیات ان میں زیادہ تھی تو قرآن کریم نے ان کو مستقل ذکر کیا کہ ایمان اور عمل صالح ایسی چیز ہے کہ جس نے صحیح طریقے پر ایمان لایا اور اپنے کردار کو ٹھیک کیا، عمل ٹھیک کیا تو الله تعالیٰ ان کو پچھلا معاف کرکے الله تعالیٰ ان کو نجات دیتا ہے۔
جب صابیئن کے لیے معاف کرتا ہے تو باقیوں کے لئے بطریق اولی معاف کرے گا، یھود اور نصاری کا بھی معاف کرے گا اور صابیئن بھی معاف کرے گا۔ مولانا سندھی رحمہ اللہ فرماتے کہ آرین اقوام یہ صابیئن ہیں۔ اسماعیل علیہ السلام کا اولاد عرب تھا تو وہ عرب ہوئے، اسحاق علیہ السلام کی اولاد بنی اسرائیل ہے تو وہ یھود، نصاری ہوئے، اس کے علاوہ جو باقی رہ گئے آرین اقوام جیسے ھندوستان، افغانستان، خراسان، انکو کہا جاتا ایران، یہ تمام آرین اقوام ہے، انکو صابیئن کہا جاتا ہے۔
یہ عیسی علیہ السلام سے پہلے کے ہیں، پانچ سو سال یا زیادہ عیسی علیہ السلام سے بعض اقوام پرانی ہے تو الله تعالیٰ نے انکو انبیاء بھیجے تھے -وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ۔ عیسی علیہ السلام سے پہلے انبیاء تھے تو ان اقوام میں بھی انبیاء آئے تھے۔ اس وجہ سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تحقیق ہے کہ صابیئن فرقہ ہے اھل کتاب کا لیکن اھل کتاب یھود ونصاری زیادہ مشھور تھے اور ان کے پاس کتاب بھی تھا اور تعلیمات بھی تو مشھور ہوئے اھل کتاب کے ساتھ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقابلہ بھی آیا تھا۔
اور باقی اقوام آرین ان کی انبیاء کا وقت بہت گزرا تھا تو ان سے اپنے انبیاء کے تعلیمات گم ہوگئے تھے، جگہ بہ جگہ تھوڑے باقی رہ گئے تھے۔ اس وجہ سے زردشت پر ایک قول ہے کہ یہ نبی تھا، اس کے تعلیمات ہے۔ بودا کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ نبی تھا اور یہ پہلے تھا، تعلیمات نبوت کے ساتھ موافق ہے۔ اسی طرح کرشن اور لال چندر کے بارے ایک قول مجدد رحمہ اللہ اور مظہر جانان کہ ان کے اقوال میں نبی کی بو ہے، ان علاقوں میں بھی انبیاء آئے تھے تو یہ بھی ایک نبی کے تعلیمات کے نیچے تھے۔
قرآن کریم تمام دنیا کو دعوت دے رہا، ان الذین آمنوا عرب ہوئے، ھادو والنصاری بنی اسرائیل ہوئے اور صابیئن بقایا دنیا ہوگئی تو تمام دنیا کو دعوت ہے نبی علیہ السلام اور الله پر ایمان لاکر اپنا کردار ٹھیک کردے۔ اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَالَّـذِيْنَ هَادُوْا وَالصَّابِئُـوْنَ وَالنَّصَارٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ یہ نہیں کہ صرف یہ دو کافی بلکہ تمام ایمانیات ذکر کرتے ہیں "لأنہما قطرا الإیمان، فمن حازھما فقد حاز الإیمان" عرائب۔
یہ دو ایمان کا بنیاد ہے، توحید اور آخرت پر ایمان ٹھیک کرنا۔ یہ دو ٹھیک ہوجائے تو باقی ایمانیات اس کے اندر داخل ہوگئے۔ جب الله تعالیٰ کو مانے گا تو الله کی کتاب، پیغمبروں کو بھی مانے گا، کتاب میں ملائک، تقدیر اور باقی انبیاء کتابیں آئی ہیں تو ان کو بھی مانے گا۔ یہ عقیدے کا ٹھیک ہونا ہوگیا۔
بنیاد ٹھیک کیا، یقین برابر ہوجائے تو عمل ٹھیک ہوجائے گا کیونکہ جس چیز پر یقین آجائے عمل میں وہی آتا ہے۔ ایک شخص کا دکان پر یقین تو سارا دن دکان میں بیٹھتا ہے، ایک شخص کا نوکری پر یقین تو سارا دن دفتر میں بیٹھتا ہے، ایک شخص کا زمینداری پر یقین تو سارا دن زمینداری میں بیٹھتا ہے۔ تو عمل صالحا اسلئے لایا کہ ایمان کہ اتنا یقین کہ کردار میں نکھر جائے۔
وَعَمِلَ صَالِحًا عمل کیا نیک موافق ایمان کا، فَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ نہیں ہوگا ان کے ساتھ ڈر کہ کیا ہوگا اور کیا ہوگا آنے والے وقت کا، کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوگا، وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ اور نہ یہ لوگ غم کرے گے کہ کچھ رہ گیا۔ جس نے ایمان اور عمل صالح حاصل کیا تو آنے والے وقت کے خطرات مکمل ختم، یہ نہیں کہ اس سے کوئی چیز رہ گیا اور یہ اس کے پیچھے پریشان ہوگا کہ مجھ سے کوئی چیز رہ گئی بلکہ ان کو کوئی غم نہیں ہوگا۔
لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ وَاَرْسَلْنَـآ اِلَيْـهِـمْ رُسُلًا یہ زجر ہے ان کو کہ یہ اکثر داعی کا خلاف کیا ہے۔ الله تعالیٰ نے ان سے مضبوط لوظ لیا تھا مانے کا لیکن جب بھی ان کے پاس داعی آیا ہے تو انہوں نے داعی کا دشمنی کیا ہے اور اگر طاقت ہوا تو اس کو شہید کیا ہے۔ یہ زجر کہ یہ اکثر انبیاء اور داعیوں کا خلاف کیا ہے تو اگر تمھارا خلاف کرے تو غم نہ کرو۔
لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ تحقیق سے لیا تھا وعدہ بنی اسرائیل سے تورات کے عمل پر قانون الہی پر عمل کا۔ یہ سورت بقرۃ میں بھی گزر گیا ہے کہ الله تعالیٰ نے وعدہ لیا تھا خُذُوۡا مَآ اٰتَيۡنٰكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّ اذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ۔ سورت الاعراف میں بھی ذکر کیا ہے وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْۚ-خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠۔
یہ بھی نہیں صرف وعدے پر اکتفاء بلکہ انبیاء کرام بھی بھیجے تھے وقت وقت پر ان کو، انبیاء کرام بھیجے، وَ اَرْسَلْنَـآ اِلَيْـهِـمْ رُسُلًا، وعدہ یاد کروانے کے لیے انبیاء بھیجے تھے لیکن انہوں نے انبیاء کا خلاف کیا تھا۔