اقامت دین، حقیقت دینداری اور دعوت کا صحیح منہج

قُلْ يَآ اَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُـمْ عَلٰى شَىْءٍ حَتّـٰى تُقِيْمُوا التَّوْرَاةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۗ وَلَيَـزِيْدَنَّ كَثِيْـرًا مِّنْـهُـمْ مَّـآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۖ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِـرِيْنَ (68)
مسئلہ بیان کرنے کو ترغیب تھا کہ مسئلہ صاف صاف بیان کرو تاکہ مریض کو مرض معلوم ہو اور وہ اپنے علاج کا بندوبست کرے ایک بندہ بیمار ہو اور خود کو ٹھیک کہتا ہو تو وہ اپنے علاج کا فکر نہیں کرتا اور جب اس کو پتہ چلے کہ میں ایک مھلک مرض میں مبتلا ہو تو پھر وہ اپنا علاج شروع کردیتا ہے اپنا فکر اس کے ساتھ پیدا ہوجاتا ہے یھودیوں اور اھل کتاب کی بیماری تھی کہ خواھشات کی بندگی کرتے تھے خودپرستی تھی اس کا نام خدا پرستی رکھا تھا خواھش کے غلام تھے اور دین کے اصل شکل کو بگاڑ کے ختم کردیا تھا اور اس کے باوجود خود کو دین دار سمجھ کے خود کو دین کا ٹھیکدار مانتے تھے اس وجہ سے دنیا میں خود کو حاکمیت کا حقدار کہتے تھے کہ دنیا میں حاکمیت ہم لائے گے ورڈ آرڈر یہ ہمارا حق ہے اور ہم ہی عزت کے تحت پر بیٹھے گے اور اس وجہ سے خود کو آخرت میں نجات کا حقدار کہلواتا لن یدخل الجنۃ الا من کان یھودا او نصاری ان تمام باتوں کا بنیاد یہ تھا کہ خود کو دین پر جانتے تھے کہ ہم دین دار ہے اور دین کی محنت کرتے ہیں اور دین کے لئے لگے ہیں اور دین کو پھیلارہے ہیں حالانکہ حقیقت بدل تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا اول یہ جو خود پسندی میں مبتلا ہے تو اول اس حقیقت سے خبردار کرو لستم علی شیء مدار دنیا میں عزت اور ترقی اور آخرت میں مدار نجات اور جنت کا الله رب العزت کا دین ہے لیکن دین الله تعالیٰ کی اتارے ہوئے نظام کا نام دین ہے خودساختہ نظام کا نام دین نہیں ہے ہم تورات انجیل سے آپکو منع نہیں کرتے کہ آپ اس سے انکار کرو بلکہ اس کی صحیح شکل اٹھا کے قرآن کریم کا اضافہ کرو آپکی قومی اصلاح تورات اور انجیل میں ہے لیکن بین الاقوامی نظام اور تمام دینوں کا ایک کرنے والا دین قرآن کریم ہے تو ساتھ میں اس کو اٹھاؤ تو تورات اور انجیل کا اصلی اور خدائی شکل اٹھا کر اضافہ قرآن کریم کا کرو تو یہ جو گمان کرتے ہو کہ ہم دیندار ہے تو اب دیندار حساب ہوجاوگے اور دنیا میں ترقی اور حاکمیت کا خواب دیکھتے ہو تو وہ خواب حقیقت میں بدل جائے اور آخرت میں نجات اور ترقی کا خواب دیکھتے ہو تو الله تعالیٰ اس کو سچ کردے گا اور اقامت جب نظام اسلامی کا نہ ہو اور اسی باتوں کا امید کرتے ہو اور اسطرح گمان کرتے ہو تو یہ صرف خواب ہوگے حقیقت میں کچھ نہیں ہوگا اس کا کوئی حقیقت نہیں تو اصل چیز اقامت دین ہے اقامت نظام الھی کہ الله رب العزت کا نظام زندگی میں قائم کرو قُلْ يَآ اَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُـمْ عَلٰى شَىْءٍ کہہ دو کہ کتاب والوں نہیں ہو تم دین کے کسی حصے پر نہیں ہو تم دنیا کے ترقی اور دنیا میں یعنی دنیا میں تمھارا کوئی حصہ نہیں یا اے کتاب والوں نہیں ہوتم نظام کے کسی حصے پر اور نہ نجات پر کہ نجات پالو گے حَتّـٰى تُقِيْمُوا التَّوْرَاةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۗ پہلے یااھل الکتاب سے معلوم کہ علماء تھے اور کتاب کو سمجھتے تھے اور اسی سے نفی کیا ہے لستم علی شیء اور پھر کہا تقیمو التوراۃ والانجیل جیسے سورۃ الجمعہ میں فرمایا مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًاؕ تو حوالہ ہوا ان کو توراۃ مطلب سمجتھے اور علم رکھتے تھے لیکن پھر اس نہیں اٹھایا مطلب یہ ہے کہ علم صرف نام پڑھنے پڑھانے کا نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ اقامت نہیں ہو تو صرف پڑھنے پڑھانے سے بندہ عالم نہیں بندہ تحقیقات سیکھ لے مطالعہ بہت کرلیا لیکن زندگی میں دین کو نہیں لایا معاشرے میں دین نہیں ہے اور یہ عالم ہے اور اقامت دین کا محنت نہیں کرتا اپنے ماحول میں دین کو نہیں لاتا تو یہ ویسے گمان کرتا کہ دیندار ہو اور وارث ہو پیغمبر کا ویسے طمع کرے گا کہ جنت میں بنگلہ میرا ہے یہ ویسے خود کو خوش کرنا ہوگا تعلل ہوگا صرف خود کو ویسے خوش کرتے ہیں حقیقت صرف اسی سے ملے گا حتی تقیمو التوراۃ والانجیل نفس مطالعہ اور کتاب سمجھنے سے نہیں ہوگا بلکہ ماحول کو بدل کے اقامت دین کی محنت کرنی چاہئے جتنا جس کا بس ہو اس کے مطابق کام کرے اقامت کے معانی پہلے گزر چکے نافذ کرو تم من ربکم تمھاری تربیت کرنے والی ذات کی طرف سے وَلَيَـزِيْدَنَّ كَثِيْـرًا مِّنْـهُـمْ مَّـآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۖ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِـرِيْنَ (68)
یہ زجر ہے ان کو جب یہ دعوت دوگے قرآن کریم کی طرف اور ان کو یہ کہے کہ تم جو یہ کام کرتے ہو یہ دین نہیں ہے تم لوگوں نے جو یہ طرز اپنایا ہے یہ پیغمبر کا طریقہ نہیں ہے جب یہ کہو گے تو چاہئے تو یہ کہ اس کے ساتھ فکر پیدا ہوکے عمل پر غور کرلیتے لیکن الٹا یہ ضد وعناد میں آکر اور خلاف شروع کرلیتا ہے اور بین الاقوامی نظام کے مخالفت میں کھڑا ہوجاتا ہے وَلَيَـزِيْدَنَّ كَثِيْـرًا مِّنْـهُـمْ مَّـآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۖ خامخا زیادہ کرتا بہت سوں میں سے ان کے وہ کتاب جو تمھاری طرف اتارا گیا ہے سرکشی اور کفر یعنی وہ گند اور زیادہ باہر آجاتے ہیں اور مقابلے کے لیے کھڑے ہوجاتے تو تسلی داعی کو فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِـرِيْنَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں بہت درد تھا انسانیت کا کہ یہ کیوں دوزخ جاتے میں بیان کرتا اور یہ نہیں مانتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت پریشان ہوتے تو الله تعالیٰ تسلی دیتا ہے کہ ان کے نہ ماننے کا نقصان آپکو نہیں ہے ان کی کفر طغیان اور سرکشی کا وبال ان پر ہے تو غم نہ کرو ان پر جو ڈٹے ہوئے کفر پر اشارہ کہ طور پر آیت کریمہ میں علماء ذکر کرتے ہیں کہ دین احکام کا نام ہے احکام ظاھرہ اور احکام باطنہ لکل آیت ظھر وبطن جیسے ایک لکھنا اور ایک کا ظاہر اور باطن ہوتا ہے اس طرح ایک کھانا اس کا ایک ظاہر ہوتا ہے دوسرا اس کا باطنی تاثیر وقوت ہوتا ہے اس طرح ایک دوائی دوسرا اس میں چھپا اثر ہوتا ہے اس طرح ایک احکام شرعیہ ایک اس کا ظاہر دوسرا اس کا باطن ہے ظاھر اس کا اعمال ہے باطن احوال ہے نماز ظاھر عمل باطن الله تعالیٰ کے ساتھ جرگہ ہے حج کے ظاہری اعمال ہے اور باطن تعظیم شعائر اللہ اور محبت ہے الله کے تو ایک ظاہری اعمال ہے اور دوسرے احوال ہے یہ اقامت اس کا حاصل کرنا خود میں اور ماحول میں بھی اس کے دو طریقے ہیں اور ھر طریقہ کے دو نتائج ہے اس دین کے حاصل کرنے کے طریقے دو ہیں اعمال ظاہرہ اور باطنیہ کے ایک طریقہ ہے الجذب الالهي اور دوسرا طریقہ التربیة المشیخیة ایک طریقہ الله رب العزت کے ساتھ تعلق اور تعلق محبت کا اور پکا محبت کہ دل الله تعالیٰ کو مانگے اور ھر حال میں اس کے طرف متوجہ ہو خوشحالی آئے تو باعتبار شکر اس کی طرف متوجے ہو اور تکلیف آئے تو باعتبار صبر اور رضا اس کی طرف متوجہ ہو دوسرا التربیة المشیخیة کہ ایک شیخ اور مربی کی تربیت میں وقت گزار لے الله رب العزت کی محبت کے دو نتائج ہے ایک نتیجہ اغراض دنیا سے اور متعلقین دنیا سے کہ دنیا اور اھل دنیا سے اعراض آئے اور دوسرا نتیجہ ہے الاقبال الی الله الله رب العزت کی طرف توجوں زیادہ ہوجائے گی اور استاذ اور مربی کی تربیت کا دو نتیجے ہے ایک تزکیہ نفس عن الرذائل اور دوسرا ہے التحلی بالفضائل تو جذب الھی کا نتیجہ اعمال ظاہرہ ہے اور تربیت کا نتیجہ احوال باطنہ ہے کہ باطنی احوال سے چھٹکارا ملے گا بغض حسد تکبر جو گندہ اعمال ہے اور جو اخلاق الھیہ ہے اور جو اخلاق حسنہ ہے ان پر قائم ہوجاوگے دونوں مل کے اقامت آئے گا بعض ظاہر کے پیچھے لگ کہ باطن کا انکار کرتے ہیں تو ان پر غم نہ کرو اور بعض باطن کے پیچھے لگ کہ ظاہر کا انکار کرتے ہیں تو فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِـرِيْنَ یہ دونوں ملا کر ان دونوں کا حصول کرو رھبان باللیل وفرسان بالنھار ظاھر اور باطن دونوں بدل کر الله تعالیٰ کے کردو باطن الله تعالیٰ کا کرکے ظاھری شریعت کو عملی کرکے خود میں اور ماحول میں لاو فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِـرِيْنَ ادھر نفی غم اور حزن کا اس طرح نہیں کرتے کیونکہ حزن غیر اختیاری ہے لیکن اس کے نتائج اختیار میں ہے جیسے بندہ خفہ ہوکے کہتا ہے کہ ان کو مسئلہ بیان نہیں کرتا ہو چھوڑو ایسا غم مت کرو کہ مسئلے کا بیان چھوڑ دو