آیتِ تبلیغ اور دعوت و عزیمت کے اہم نکات

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗؕ-وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ(67)
ادھر سے سورت کا نواں سبق، نواں باب شروع ہوتا ہے۔ ماقبل باب میں قبائحِ اہلِ کتاب کے بیان ہوئے، ان کے گندے اعمال بیان ہوئے؛ تو اب ترغیب الی التبلیغ ہے کہ یہ مسئلہ صاف پہنچاؤ۔ یہ ضدی اور عنادی ہیں، یہ مانتے ہیں یا نہیں مانتے، آپ صاف مسئلہ بیان کرو۔ دوسرا مناسبت یہ کہ پہلے گندے اعمال یہود کے بیان ہوئے، اب کہتے ہیں کہ جنگل شیروں سے خالی نہیں ہوتا؛ آپ مسئلہ بیان کرو بہادری کے ساتھ۔ ہر قوم میں سنجیدہ اور عقلمند لوگ ہوتے ہیں، آپ مسئلہ بیان کرتے رہو، وہ تو مان لیں گے۔ دعوت کا انحصار صرف اپنی قوم اور عرب پر نہ کرو بلکہ باقی اقوام کو بھی مسئلہ بیان کرو؛ ان میں سنجیدہ اور ہوشیار لوگ مسئلہ مان کر آپ کے ساتھ عالمی اور بین الاقوامی محنت میں شرکت کریں گے۔
تو ترغیب الی التبلیغ ہے اور اس میں ان کی اصلاح مقصود ہے۔ خود سے کچھ خود ساختہ طریقے اور نظام بنایا ہے اور خود کو اس پر کامیاب اور عزت مند مانتے ہیں؛ حقائق بیان کرو تاکہ سمجھ سکیں اور ان کی غلطی کی وجہ بھی بیان کرو، عقائد کی غلطی بیان کرو، اللہ تعالیٰ ان میں آپ کے افراد پیدا کرے گا۔ "وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ"—یہ آیت 86 تک ان کو دعوت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ترغیب ہے مسئلہ بیان کرنے کی۔
"یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ" اے پیغمبر! پہنچاؤ جو کچھ آپ پر نازل ہوا آپ کی تربیت کرنے والی ذات کی طرف سے۔ "ما انزل" جمیع ما انزل، تمام کے تمام پہنچاؤ۔ جس طرح ایمان بالقرآن تقسیم قبول نہیں کرتا کہ بعض آیات پر ایمان لائے اور بعض پر نہیں، تو یہ فائدہ نہیں کرتا؛ اس طرح تبلیغ بعض کا اور کتمان بعض کا فائدہ نہیں کرتا کہ بعض پہنچاتے اور بعض چھپاتے، بلکہ تمام مراد ہے۔
انعام 38 میں فرمایا: "مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ" کہ لوگوں کی جو ضرورت تھی وہ تمام ہم نے بیان کردی؛ تو آپ رسول ہیں، آپ بھی بیان کردو۔ نحل 89: "وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ"۔ سورۃ یوسف 111 میں فرمایا: "وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠"۔ لوگوں کی جو ضرورت ہے وہ تمام قرآن میں موجود ہے، وہ تمام کے تمام بیان کردو۔ یہ نہیں کہ کچھ مسائل بیان کرتے ہو جو لوگوں کے مزاج کے موافق ہوں یا آپ کے مزاج کے موافق ہوں اور اللہ رب العزت کی شریعت کا بہت سا حصہ نظر انداز کیا ہو۔ پچھلی آیت میں یہودیوں کی ایک گندی عادت ذکر ہوئی: "فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ" انہوں نے "مما ذکرو بہ" کا ایک بڑا حصہ چھوڑ دیا تھا۔
جمیع ما انزل بیان کردو، اس میں وحیِ جلی اور وحیِ خفی دونوں ہیں۔ دونوں اللہ تعالیٰ نے بیان کردیا؛ قرآن کریم بھی دیا ہے اور قرآن کریم کی وضاحت بھی آپ کے سینے میں ڈالی ہے: "ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗ"۔ تو اسی طریقے پر بیان کرو: "لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ"۔ تمام کا تمام پہنچاؤ۔ ایک "ما انزل الیک" سے تمام مراد، دوسرا "بلغ" بابِ تفعیل سے ہے اور بابِ تفعیل تکرار کے لیے ہے، مطلب بار بار پہنچاؤ۔ یہ نہیں کہ ایک دفعہ بیان کیا اور کہہ دیا کہ یہ کافی نہیں، بلکہ بار بار پہنچاؤ۔ زمین ہر وقت پانی مانگتی ہے، کچھ دن بعد پانی مانگتی ہے اور خود دن میں کتنی دفعہ پانی پیتے ہو؟ اس طرح دل کی مثال ہے اور قرآن کریم اس کے لیے پانی کی حیثیت رکھتا ہے؛ بار بار بیان کرو، ہر وقت اس کا بیان کرو۔ "بلغ" میں تکرار بھی ہے اور "ما" میں تمام مراد ہے؛ بار بار پہنچاؤ۔ "ربک" آپ کی تربیت کرنے والے نے اتارا تو آپ کو کمال تک پہنچاتا ہے، ساتھ میں تنبیہ اور زجر دیتے ہیں۔
"وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ" اگر نہیں کیا یہ کام، "ان لم تبلغ ما انزل الیک من ربک" اس سے مختصر کرکے کہا: "اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ" مطلب بار بار نہیں پہنچایا اور تمام کے تمام نہیں پہنچایا تو "فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ" آپ نے پیغمبری کا حق ادا نہیں کیا، وظیفہ اور ڈیوٹی پوری نہیں کی۔ تو "فان لم تفعل" میں قیودات کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ کوئی اعتراض کرے گا کہ اس کا کیا فائدہ؟ جس طرح آپ ظاہراً کسی کو کہو گے کہ یہ چائے پیو اور اگر اس نے چائے نہیں پی تو نہیں پی ہوگی، تو اس کا کیا مطلب "کل ھذا الطعام وان لم تاکل الطعام فما اکلتہ"؟ تو یہ تو کلامِ غیر مفید ہے۔ تو اصل میں ادھر قیودات مراد ہیں: "فما لم تفعل" اگر پورا کا پورا نہیں پہنچایا، مطلب بعض پہنچایا اور بعض نہیں پہنچایا، اپنا یا لوگوں کا لحاظ کیا؛ یا "وان لم تفعل" بار بار نہیں پہنچایا، ایک دفعہ مسئلہ بیان کیا لیکن بار بار بیان نہیں کیا۔
جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا بار بار بیان کرتے کہ انہوں نے کہا: "وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ" بار بار دہرا کر آپ نے یہ مسئلہ پرانا کردیا، بس کردو۔ تو دوبارہ دوبارہ، بار بار بیان کرو، پتا نہیں فطرت کب جاگ جائے؟ اگر ایک دفعہ بیان سے ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی دفعہ صفا پر چڑھے تو بات ختم ہوجاتی۔ بار بار بیان کیا تو حمزہ رضی اللہ عنہ پانچویں سال بیدار ہوئے، عمر رضی اللہ عنہ چھٹے سال بیدار ہوئے، خالد ابن ولید سولہویں سال بیدار ہوئے، ابو سفیان تقریباً بیس سال بعد بیدار ہوئے۔ یہ بار بار پہنچانے کی برکت تھی۔ بار بار بیان کرو، ایک دفعہ یہ مردہ ضمیریں جاگ جائیں گی۔
تیسرا مطلب مدارک نے ذکر کیا ہے: "وان لم تفعل" اگر پہنچایا نہیں، فوراً حالات اور اسباب کا انتظار کیا؛ میں نے حکم دیا پہنچاؤ، آپ نے کہا نہیں تھوڑا اسباب برابر ہوجائیں، ایک مسجد بناتا ہوں، زمین حاصل کروں تو پھر مسئلہ بیان کروں گا۔ اگر انتظار کیا اسباب و ذرائع کا تو "فما بلغت رسالته" آپ نے مسئلہ نہیں پہنچایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ایک قول ہے: "من حدثك أن محمدا كتم شيئا مما أنزل الله عليه فقد كذب والله يقول يأيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك"۔ جس نے آپ کو یہ بات کہی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے "ما انزل" سے کچھ چھپایا ہے تو جھوٹ بولا اس نے، کیونکہ اللہ نے فرمایا: "فما بلغت رسالته"۔ ابن کثیر نے دوسرا قول ذکر کیا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "لو ان محمدا کتم شیئا مما انزل لکتم ھذہ الآیۃ" اگر "ما انزل" سے کچھ چھپاتے تو یہ آیت چھپاتے، کیونکہ پھر باقی کو چھپانا آسان ہوتا۔ یہ آیت کریمہ چھپاتے اس وجہ سے۔ جن گمراہ فرقوں نے یہ کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض نہیں پہنچائے اور بعض کسی کے پاس راز چھپایا اور دس پارے اور لائے گا، تو آیت کریمہ ان پر رد ہے۔ "ما انزل" جو بھی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچایا ہے، چھپایا نہیں ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹنی پر سوار تھے، لاکھ سے زائد صحابہ تھے؛ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ قیامت کے دن آپ سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا کہ اس نے مسئلہ پہنچایا تھا یا نہیں تو آپ کیا کہو گے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے صرف پہنچایا نہیں بلکہ پہنچانے کا حق ادا کردیا ہے۔ ان کو فرمایا: "الا ھل بلغت" میں نے مسئلہ پہنچایا یا نہیں؟ تو صحابہ کرام نے فرمایا: "قد بلغت و ادیت ونصحت" مسئلہ پہنچا کر حق ادا کیا ہے اور خیر خواہی کی ہے۔ آپ نے صرف اپنے کندھوں سے بوجھ نہیں اتارا بلکہ مخاطب کی خیر خواہی کی ہے، اسی انداز سے بیان کیا کہ یہ لوگ کس طرح مسئلہ مان لیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور پھر نیچے کرکے صحابہ کی طرف اشارہ کرتے اور فرماتے: "اللھم اشھد، اللھم اشھد، اللھم اشھد" اے اللہ گواہ ہو جاؤ، یہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے مسئلہ پہنچایا ہے، آپ گواہ ہو جاؤ۔
بندے کے ساتھ فکر ہوتی ہے، دعوت "ما انزل" کما حقہ کرنے میں تکالیف کا خطرہ ہوتا ہے، کیونکہ کچھ مذہبی ٹھیکیدار ہوتے ہیں اور کچھ دنیاوی حاکم ہوتے ہیں۔ اس دعوتِ "ما انزل" سے اللہ کے دین کی صحیح شکل پیش کرنے سے ان مذہبی اجارہ داروں اور دنیاوی ٹھیکیداروں کی ٹھیکیداری ختم ہوتی ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں:
چیست قرآن؟ خواجہ را پیغامِ مرگ
دستگیرِ بندۂ بے ساز و برگ
قرآن کریم کیا ہے؟ یہ خواجگان اور سرداروں، مذہبی ٹھیکیداروں کے لیے موت کا پیغام اور کمزوروں کا سہارا ہے۔ وقت کے فرعونوں پر ضرب ہے۔ ان دونوں کی طرف سے آپ کو تکلیف ہوگی، ایک ضرر بھی پہنچے گا اور دوسرا دنیاوی مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ تو "واللہ یعصمک من الناس" آپ کو ضرر نہیں دے سکتے، آپ کو مار نہیں سکتے اور آپ کے دنیاوی مفادات میں دیوار نہیں بن سکتے، آپ کو آپ کا فائدہ پہنچے گا۔ تو ایک بچاؤ کا وعدہ پہنچانے میں ہے، چھپانے میں نہیں؛ دوسرا یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکالیف پہنچی تھیں تو اس کا جواب یہ کہ اس آیت سے پہلے پہنچی تھیں، پھر اس آیت کے بعد کوئی تکلیف نہیں ملی تھی۔ دوسرا اس سے عصمتِ کامل مراد ہے کہ موت دشمن کے ہاتھ سے نہیں ہوگی، وہ آپ کو قتل نہیں کرسکتے۔
کابلگرام شیخ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے تھے کہ علاقے کے داعیِ اول کے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ مخلوق آپ کو مار نہیں سکتی، موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ تیسرا یہ کہ ان چیزوں سے بچاؤ مراد ہے جو تبلیغ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ آپ دعوت دیتے رہو تو بچانے والا اللہ تعالیٰ ہے؛ اس طریقے سے تکلیف نہیں پہنچا سکتے کہ آپ کی آواز بند کریں، باقی ایسے تکالیف کہ اس سے بندے کے درجات بلند ہوجاتے ہیں اور لوگ متوجہ ہوجاتے ہیں اور دعوت کی تشہیر ہو، تو یہ تو دعوت کے ساتھ لازمی باتیں ہیں۔ یا بیماریوں کا آنا، بدنی یا مالی، یہ نقصان نہیں ہے۔ یہ آیت کریمہ جب نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چوکیدار ہٹا دیے کہ مجھے بچانے والا اللہ رب العزت ہے۔