ایمان اور تقویٰ نجات اور کامیابی کا راستہ

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ (65)
اہلِ کتاب کے گندہ اعمال بیان ہو گئے، اب اہلِ کتاب کے لیے ان گندہ اعمال سے نجات کا طریقہ بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے اندر جو گندہ اعمال ہیں، ان کی نحوست اور گندگی سے بچنے کا طریقہ کیا ہوگا۔ تو ان کو دعوت ایمان اور تقویٰ کی دی گئی کہ ایمان اور تقویٰ کی طرف آؤ تو اپنے اعمال کی گندگی سے بچ جاؤ گے۔
تو بشارت دے رہے ہیں آخرت اور دنیا دونوں کی کہ اگر آخرت اور دنیا میں کامیابی چاہتے ہو تو اللہ کے صحیح نظام اور دین کی طرف آؤ، ایمان اور تقویٰ کی طرف آؤ، اللہ رب العزت تمہیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب کر دے گا۔
وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ، اگر اہلِ کتاب ایمان لاتے اور خود کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچاتے تو ضرور میں ان سے ان کی پریشانیاں ہٹا دیتا۔
کتاب والے ایمان لاتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر، کیونکہ اہلِ کتاب کو اپنی کتاب پر ایمان تھا، اس لیے ان کو کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر ایمان لاؤ۔ دوسرا یہ کہ آمنوا بما یجب بہ الایمان، کہ ایمان لاتے ہر اس چیز پر جس پر ایمان لانا واجب ہے۔ تیسرا آمنوا کہ اپنی کتابوں پر کماحقہ ایمان لاتے جس طرح ان کتابوں پر ایمان لانا چاہیے تھا، ان کتابوں میں دعوت تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف۔
عاشقی گر زیں سر و گر زاں سر است
عاقبت ما را بدان سر رہبر است
ایمان اگر قرآن پر لائے تو یہ بھی باقی انبیاء پر ایمان کی دعوت ہے، یہ نہیں کہ باقی انبیاء سے انکار کرو، اور اگر تورات و انجیل پر ایمان لاؤ تو وہ بھی یہ نہیں کہتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انکار کرو، بلکہ وہ بھی دعوت دیتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کی طرف۔
وَاتَّقُوا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچ جاتے۔ ایمان اصل عقائد کا ہے اور یہ بنیاد ہے، وَاتَّقُوا یہ کردار ہے، عمل ہے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے خود کو بچانا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنا۔ اللہ تعالیٰ سے ڈر یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے خود کو بچائے۔ ویسے ڈر شیطان میں بھی تھا، کہتا ہے: اِنِّي اَخَافُ اللّٰهَ، اتنا بڑا کام کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر رہا ہوں، لیکن اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے خود کو نہیں بچا رہا تھا۔
تو ڈر سے مراد وہ ڈر ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ
اللہ تعالیٰ ہمیں وہ ڈر دے جو ہمارے اور گناہوں کے درمیان دیوار بن جائے۔
تو ایمان اور تقویٰ کے دو نتائج: لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ، خامخا ان سے ان کے گناہ ہٹا دیتا۔ ایک یہ کہ انہوں نے جو گناہ کیے، یہ ان کو معاف کر دیتا، کیونکہ الإِسْلَامُ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ، اسلام سے پچھلے گناہ ختم ہو جاتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ سیئات سے مراد مصائب و مشکلات۔ ان گناہوں کی وجہ سے یہ ذلیل ہو گئے، یہ پچھلے سیئات گزر گئے، ان کی نحوست ان پر آئی، غربتیں آئیں، سب کچھ ان پر آیا۔ سیئات سے مراد پریشانیاں، ان گناہوں کے جو غلط نتائج زندگی میں آئے تھے۔ گناہ نحوست رکھتا ہے اور اس کی وجہ سے بے برکتیاں زندگی میں آتی ہیں۔ سیئات، وہ مصائب و پریشانیاں، وہ ان کے لیے ختم کر دیتا۔
تیسرا یہ کہ ایمان اور تقویٰ کا نتیجہ یہ تھا کہ جو پہلے اس کی تمام استعداد اللہ تعالیٰ کے خلاف استعمال ہو رہی تھیں، دل بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ضد و عناد میں اور مال بھی شریعت کے خلاف، طاقتیں شریعت کے خلاف استعمال ہو رہی تھیں، اب ان سیئات کو ہٹا کر اس کی طاقتیں صحیح جگہ میں استعمال ہوں گی۔ قلم، موبائل، تلوار، ڈھال، ٹینک اور ایٹم بم غلط جگہ میں استعمال نہیں ہوں گے۔ سیئات کو ختم کر دوں گا، حسنات آ جائیں گے۔ اب اگر گولی چلائے گا تو صحیح جگہ پر چلائے گا۔
دوسرا: وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ، اور خامخا ان کو نعمتوں کے باغات میں داخل کر دوں گا۔ یہ نہ کہے کہ مجھ سے نعمتیں رہ جائیں گی، ایمان لائے تو دنیا میں بھی پریشان کن حالات ختم اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ نعمتیں دے گا، تو بیسوں انگلیاں گھی میں ہوں گی۔
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ (66)
یہ بشارت دنیاویہ ہے اور ایک وہم کا ازالہ ہے کہ انہوں نے خودساختہ نظام بنائے تھے۔ تورات اور انجیل میں اللہ تعالیٰ کے نظام تھے، ان پر انہوں نے عمل چھوڑ دیا تھا اور امور میں تحریف کی تھی، احکامات کو بدل لیا تھا۔
ویسے دل میں تھا کہ ہم دین پر عمل کر رہے ہیں، باقی دین سے پھر گئے تھے۔ مالداروں اور بادشاہوں کے لیے مسائل اور جواز ڈھونڈتے تھے، اس وجہ سے وہ ان کے مدارس اور جامعات کے ساتھ تعاون کرتے تھے، اور امامت میں بھی پیسے ملتے تھے، تحفے تحائف ملتے تھے، کبھی نکاح، کبھی جنازہ، کبھی پیدائش کے مواقع پر۔
ان کے ساتھ یہ خطرہ تھا کہ اگر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے اور دین پر صحیح طریقے سے عمل کریں تو کوئی ہمیں کچھ نہیں دے گا، ہم بھوک سے مر جائیں گے۔
قرآن اس وہم کو دور کرتا ہے کہ جس تنہائی اور قلتِ مال سے تم ڈر رہے ہو، حقیقت میں وہ اللہ کے دین کو چھوڑنے سے آتی ہے۔ جب تم اللہ کے دین کو اختیار کرو گے تو معیشت مضبوط ہو جائے گی۔
یہ برکات اللہ تعالیٰ کے دین اور توحید کے ساتھ ہیں۔ تم کس طرح بے دینی میں ترقی چاہتے ہو؟
یہی خوف مشرکین نے بھی کیا تھا۔ قرآن نے فرمایا:
اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ
اسی طرح سورۃ القصص میں:
وَقَالُوا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا
قرآن نے وعدہ کیا ہے کہ دین پر عمل کرو گے تو دنیا بھی ملے گی۔
حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ شریعت کے احکام میں دنیاوی فوائد بھی ہیں، لیکن اصل مقصد اللہ کی رضا ہے۔
ہمارے مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا بطور “چونگی” دے گا، جیسے دکاندار بچے کو کچھ اضافی چیز دے دیتا ہے۔
تمہارا مقصد دنیا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اللہ کی رضا ہونی چاہیے۔ اگر دنیا خراب بھی ہو جائے تب بھی دین پر قائم رہو۔
جب نیت خالص ہو جائے تو اللہ تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے۔ نماز، علم اور دین کی خدمت صرف اللہ کے لیے ہو۔
انسان کی نیت یہ ہو کہ میں اللہ کے دین پر مکلف ہوں، میں یہ کام کروں گا، دنیا ملے یا نہ ملے۔
یہ قرآن کا بڑا مضمون ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین پر دنیا کا وعدہ بھی کیا ہے، اور اللہ کی اطاعت رزق میں وسعت کا سبب ہے۔
ایک گھر دین پر چلے تو اس میں برکت آتی ہے، ایک ملک دین اختیار کرے تو اس کی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔
قرآن کریم میں یہ مضمون بار بار آیا ہے کہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرو، اللہ کے دین پر چلو، تو دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گے۔